پاکستان میں پروگروتھ فلیٹ ٹیکس پالیسی کے نفاذ کی ضرورت

بھاری ،پیچیدہ ٹیکسوں کے نفاذ نے پاکستانی معیشت کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ فوٹو: ویب

بھاری ،پیچیدہ ٹیکسوں کے نفاذ نے پاکستانی معیشت کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ فوٹو: ویب

کراچی: ایک پروگروتھ فلیٹ ٹیکس پالیسی اور فلیٹ ٹیکس اصلاحات کا منصوبہ ٹیکسیشن کے نظام کو ڈرامائی طور پر تبدیل کردے گا۔

ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ذاتی انکم پر 10 فیصد کا فلیٹ ٹیکس ، 5 فیصد جی ایس ٹی، کارپوریٹ انکم پر 20 فیصد، 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 3 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کرکے تمام ٹیکسز کو ری پلیس کرسکتا ہے۔

فلیٹ ٹیکس کے بارے میں دو طرح سے بات کی جاسکتی ہے، جس میں سے ایک ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور شرح کم از کم ممکنہ سطح پر رکھنا اور دوسرا سنگل ٹیکسیشن کے نظریے پر فوکس کرنا ہے، ٹیکس کے جال کو پھیلانا جزوی طور پر دوسرے مقصد کو پورا کرتا ہے، جس سے ڈبل ٹیکسیشن کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

بھاری ٹیکسوں کے نتیجے میں پیداواری سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہوتا ہے جبکہ کم ٹیکسوں کے نتیجے میں پیداواری سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے، اور ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے، پاکستان کو ایک پروگروتھ فلیٹ ریٹ براڈ بیس ٹیکس سسٹم کی ضرورت ہے، جس میں ہر شخص اپنی آمدنی سے مساوی ٹیکس ادا کرتا ہے۔

بھاری اور پیچیدہ ٹیکسوں کے نفاذ نے پاکستانی معیشت کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے، پاکستان وسطی اور مشرقی یورپی ممالک سے فلیٹ ٹیکس کے نفاذ کا طریقہ کار سیکھ سکتا ہے، جنھوں نے 90 کی دہائی میں فلیٹ ٹیکس کو اختیار کیا اور اب تک کامیابی سے چلا رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔