پولٹری سیکٹر میں باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے چوزوں کی قیمت کے تعین کا انکشاف

ارشاد انصاری  پير 20 مئ 2024
 فوٹو:فائل

فوٹو:فائل

 اسلام آباد: پولٹری سیکٹر میں باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے چوزوں کی قیمت کے تعین کا انکشاف ہوا ہے جس پر مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے کیس کی سماعت شروع کردی۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن بظاہر قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے، جرم ثابت ہونے پر ایسوسی ایشن اور اس کے ممبران پر ساڑھے سات کروڑ روپے یا سالانہ ٹرن اوور کا کم از کم دس فیصد جرمانہ عائد ہو سکتا ہے، مسابقتی کمیشن کا ٹریبونل حتمی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنائے گا۔

کمیشن نے پولٹری ایسوسی ایشن اور آٹھ دیگر اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے، پولٹری ایسوسی ایشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق کیس کے دوران اپنے اوپر لگنے والے الزامات کیخلاف دفاع پیش کیا، سال 2019 سے جون 2021 کے دوران ہیچریوں کا مشتبہ کارٹیل سامنے آیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پولٹری ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملی بھگت سے ایک دن کے برائلر چوزوں کی قیمت بیاسی روپے پچاس پیسے مقرر کی، ہیچریز اور مارکیٹ میں ایک دن کے چوزے کا ریٹ یکساں پایا گیا اور شک ہونے پر انکوائری آغاز ہوا۔ کمیشن کے مطابق مشتبہ کارٹیل میں افزائش سے برائلر چکن، پولٹری فیڈ، انڈوں کی پیداوار بھی شامل ہے۔

کیس کی مزید سماعت کل ہوگی اور دیگر آٹھ اداروں کا موقف سنا جائے گا، ان میں ہائی ٹیک گروپ، اسلام گروپ آف کمپنیز، اولمپیا بھی شامل ہیں، جدید گروپ، سپریم فارمز، سیزن فوڈز، بگ برڈ گروپ، صابرز گروپ بھی کارٹیلائزیشن میں بظاہر ملوث ہیں، مسابقتی کمیشن کے مطابق پولٹری ایسوسی ایشن کے دفاتر پر چھاپہ بھی مارا گیا اور اس دوران شواہد اکھٹے کیے گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔