کراچی؛ اپنے اغوا اور قتل کا جھوٹا ڈراما رچانے والا 24سالہ نوجوان زندہ بازیاب

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 24 مئ 2024
فوٹو : ایکسپریس نیوز

فوٹو : ایکسپریس نیوز

  کراچی: صدر انویسٹی گیشن پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پر راولپنڈی میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اپنے اغوا اور قتل کا جھوٹا ڈراما رچانے والے 24 سالہ نوجوان کو زندہ بازیاب کرا لیا۔

تفصیلات کے مطابق 24 سالہ نوجوان غلام رسول او ایس سیشن کورٹ ڈسٹرکٹ شہید بے نظیر آباد کا بیٹا ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ عبدالرحیم شیرازی کے مطابق نوجوان غلام رسول 23 اپریل کو نواب شاہ سے کاروبار کے سلسلے میں کراچی آیا تھا اور صدر کالا پل کے قریب سے لاپتہ ہوگیا تھا، 24 اپریل کو نوجوان کے ماموں محمد حنیف کی مدعیت میں صدر تھانے میں اس کے بھانجے غلام رسول کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دوران تفتیش معلوم ہوا کہ مغوی نوجوان غلام رسول 85 لاکھ روپے کا مقروض تھا، مغوی نوجوان نے اپنے فیس بک میسنجر سے اغوا کار بن کر اپنے ہی دوستوں کو میسج کیا کہ تمارا بندہ ہمارے پاس ہے، مغوی نوجوان نے اپنے جسم پر لال رنگ لگا کر قتل کر جھوٹا ڈراما بھی رچایا تاکہ قرض ادا کرنے سے بچ جائے جبکہ مغوی نوجوان نے اپنے میسنجر سے اغواکار بن کر اپنے والدین اور دوستوں کو اپنے مردہ ہونے کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔

مغوی نوجوان نے اہلخانہ اور دوستوں کو اعلیٰ پولیس افسران کے دفتر کے باہر احتجاج پر بھی اکسایا اور پوسٹ میں لکھا کہ ہم نے تمھارا بندہ مار دیا ہے جیسے پولیس ہمارے ساتھیوں کو مارتی ہے اور بھی کچھ لوگ ہمارے پاس قید ہیں، ایک دو روز میں ان کی بھی باری آنی ہے جبکہ اب پولیس افسران کے بچے بھی اٹھا کر ماریں گے، انہیں بھی پتہ لگے کہ جب اپنوں کی لاشیں دیکھنے کو ملیں گی تو کیا ہوتا ہے اور ہمار صرف ایک مقصد ہے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹاؤ یا تو لاشیں اٹھاؤ۔ گھر والوں نے لکھا خدا کے واسطے ہمیں لاش کا بتا دو جس پر جواب آیا کہ آئی جی کے خلاف احتجاج کرو پھر بتائیں گے۔

نوجوان غلام رسول خود ہی اپنے اہلخانہ سے انتہائی سفاکانہ باتیں کرتا رہا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ جنگ شروع پولیس نے کی لیکن ختم ہم کریں گے۔

ایس ایس پی کے مطابق مغوی نوجوان نے آئی جی سندھ کے استعفا کا بھی مطالبہ کیا۔ ساؤتھ انویسٹی گیشن پولیس نے آئی پی ایڈریس کی مدد سے راولپنڈی میں چھاپہ مار کر اغوا اور قتل کا جھوٹا ڈراما رچانے والے نوجوان کو زندہ بازیاب کرلیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔