ماضی کو مستقبل نہ بناؤ

جاوید قاضی  اتوار 26 مئ 2024
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

جب فیصل واوڈا کی ’’ہرزہ سرائی‘‘ کو توہینِ عدالت کے پیمانوں میں تولا گیا تو ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی۔ پارلیمنٹ اور عدالت کے بیچ ٹکراؤکی، واوڈا صاحب سینیٹر ہیں۔ ان سے پہلے بھی ایک سینیٹر نہال ہاشمی توہینِ عدالت کی چکی میں پس چکے ہیں۔

نہال ہاشمی ایک وکیل ہیں مگر فیصل واوڈا نہیں اور اس دفعہ وکلاء میں بھی تضادات ہیں، وہ بٹے ہوئے ہیں۔ افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں ایسا نہیں تھا۔ افتخار چوہدری کے زمانے میں وکلاء حضرات نے قانون کی بالا دستی اور حکمرانی کے لیے ایک ڈکٹیٹر کے خلاف وکلاء تحریک چلائی، بے نظیر صاحبہ اور نواز شریف کی واپسی کے لیے راہیں ہموارکیں، مگر تحریک کی کامیابی کے بعد جمہوریت اور پارلیمان کا کیا حشر ہوا ،وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔

افتخار چوہدری نے توہینِ عدالت کے زمرے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو عہدے سے برخاست کیا لیکن اس توہینِ عدالت کا جواز کچھ اور تھا وہ توہینِ عدالت، عدالت کا حکم نہ ماننے پر لاگو ہوئی تھی۔ نہال ہاشمی اور فیصل واوڈا پر الزام یہ ہے کہ وہ عدالت اور جج صاحبان کے خلاف سخت لب و لہجہ استعمال کرتے ہیں۔

افتخار چوہدری، جنرل مشرف سے ٹکراؤ میں تھے مگر جنرل پرویزکیانی سے قریب تھے۔ اس ملک میں جمہوریت کوکمزور کرنے کے لیے میموگیٹ اسکینڈل سے لے کر وزیرِاعظم کی برطرفی تک جو بھی اقدام ہوئے انھیں زمانوں میں ہوئے اور یہ اقدام ریکارڈ پر ہیں۔

آئین سے 58(2)(b) کی شقوں کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن وزیراعظم کو رخصت کرنا، آج بھی بہت آسان ہے ۔

نو مئی کے واقعے کو ایک برس گزر چکے ہیں، لیکن ریاست کے جسم پر لگے یہ زخم نجانے کتنی برساتوں کے گزرجانے کے بعد بھریں گے۔ اس وقت جو چنگاری سلگانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس نے آگ پکڑ لی تو شاید اسے کوئی نہ بجھا سکے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار،سابق چیف جسٹس کھوسہ ، سابق چیف جسٹس گلزار اور سابق چیف جسٹس عطا بندیال تک جو جیوڈیشل ایکٹوازم دیکھنے میں آیا، اس کی ساری روداد کتابوں میں محفوظ ہے۔

میرحاصل بزنجو کس طرح سینیٹ کا جیتا ہوا الیکشن ہارے تھے،وہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ 2014 میں عمران خان نے پارلیمنٹ کو محصورکرنے کے لیے دھرنا دیا، پاکستان ٹیلی وژن کی عمارت پر دھاوا بولا، پی ٹی وی کی نشریات بند کرادی گئیں، کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں۔

ماضی میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر جو گروہ حاوی رہا، اس گروہ نے افغان پالیسی ترتیب دی، افغان جنگ کی برکات نے اس گروہ کی قسمت بدل دی، ریاست کے تمام طاقتور عہدے اس گروہ کے پاس تھے، سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ ان کی مرضی سے ہوتی رہی، یہی گروہ کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے ایمنسٹی اسکیمز لاتا رہا، آج بھی یہ گروہ من مانی کرنے سے باز نہیں آرہا، افغانستان کے پہلے مجاہدین گروپ اور بعد میں طالبان اور القاعدہ کے حامی ’’وائٹ کالر‘‘ طبقے بھی افغان جنگ کی برکات سمیٹ کر اقتدار اور دولت کے مزے لیتے رہے ہیں، اس لیے اب یہ گروہ ایک دوسرے کے کام آرہے ہیں، افغانستان کے عوام اور پاکستان کے عوام جائیں بھاڑ میں، ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

لیکن پاکستان کی ریاست اب ماضی کی ان خرافات سے دور ہوتی نظر آتی ہے، اب وہ طالبان اور پاکستانی انتہاپسندوں اور افغان جنگ کے بینیفشریز کے ایجنڈے کے ساتھ نہیں ہے۔ شمال مغرب میں بارڈر پار اسمگلنگ کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، معیشت اور کاروبار کو اولیت دی جارہی ہے ، بلیک اکانومی کا سائز کم کرنے کی کوشش نظر آرہی ہے ۔بارڈر رجیم پر سختی سے عمل کرایا جارہا ہے اور جہاں قوانین میں سقم ہے ، انھیں دور کیا جارہا ہے اور جہاں نئے بارڈ رولز اور ریگولیشنز کی ضرورت ہے ، نئے قوانین بنائے جارہے ہیں۔ اب اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑی ہے اور پارلیمنٹ اپنا وقار بحال کرتی نظر آرہی ہے ۔

جب روس کی معیشت بیٹھ گئی اورگوربا چوف اور اس کے حامیوں نے اقتدار پر گرفت مضبوط کرکے سوشلزم سے انحراف کرنا شروع کیا، کمیونسٹ پارٹی کا ڈھانچہ کمزور کرنا شروع کیا تو سوویت یونین میں زیرزمین تمام مافیاز اور مفت خوروں نے کمیونسٹ پارٹی کے اندر جڑیں پکڑ لیں۔ سوویت یونین کی معیشت کا پہیہ رک گیا تھا۔ بیوروکریسی کا ڈھانچہ کمزور پڑ گیا، کمونسٹ پارٹی کی گراس روٹ لیول تک تنظیمیں کمزور پڑنا شروع ہوگئیں۔

بلیک اکانومی کا سائز حدود سے بڑھ گیا، آخر کار بورس یلسن جیسا اینٹی سوشلسٹ لیڈر اقتدار پر قابض ہوگیا، جس کا نتیجہ سوشلسٹ سوویت یونین کے خاتمے کی صورت میں برآمد ہوگیا۔اب پیوٹن لاکھ کوشش کرلے ، وہ اور اس کے ساتھی، روس کو پیٹر دی گریٹ جیسی شان وشوکت نہیں دلا سکتے اور نہ ہی سوویت یونین جیسی عالمی پاور کا درجہ دلا سکتے ہیں۔

پاکستان میں جنرل ایوب خان اور جنرل ضیا الحق کی باقیات اور اس کا تسلسل عوام کی بدحالی کا سبب ہے، بلواسطہ یا بلاواسطہ انھوں نے اربوں روپے کمائے۔ اب پاکستان میں اقتدار کی جنگ نے وہ شکل اختیار کر لی ہے جیسا کہ 1939 میں اسپین میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی، جس میں نوبل انعام یافتہ ادیب ھیمنگوے نے بھی حصہ لیا۔ عمران خان سوشل میڈیا، ٹک ٹاک۔ فیک نیوز اور پروپیگنڈے کی مدد سے ایک پاپولرلیڈر ہیں۔ ان کی اور ان کی پارٹی کی فنانشنل لائف لائن قائم ہے ، خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ علاقے ان کی سیف ہیون بن چکے ہیں۔

ایوب خان اور ضیاالحق کی باقیات اور طالبان ایک ہی نظریے کے حامی ہیں اور فیض یافتہ ہیں ورنہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ فیڈریشن کو دھمکیاں دینے کی جرأت کرسکتا ہے؟ کیا کسی سیاسی جماعت کے افراد آئی ایم ایف کو خط لکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کو بیل آوٹ پیکیج نہ دیا جائے؟

کیا کوئی فوج کی تنصیبات پر حملہ آور ہونے کی جرأت کرسکتا ہے، اپنے فوجی شہدا کی یاد گاریں مسمار کرسکتا ہے؟ ایران میں کوئی ایرانی پاسدران انقلاب کی بے حرمتی کرکے دکھائے، افغانستان میں طالبان کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کر کے دکھائے اور پھر اپنا انجام دیکھ لے۔

ان تمام مسائل کے باوجود ہماری معیشت بہتر ہورہی ہے اور یہ ایک خوش آیند بات ہے۔ ان تمام سیاسی چیلنجز کے باوجود اسٹاک ایکسچینج کی کار کردگی بہتری کی طرف رواں ہے۔ میاں صاحب مسلم لیگ نون کے صدر بننے جا رہے ہیں۔ مریم نواز کی کارکردگی بھی بہتر ہے۔ عمران خان کو اب تک کوئی سزا نہیں ملی۔

یہ جنگ کل اور آج کی جنگ ہے۔ کچھ ایسی قوتیں ہیں جو ہمیں ماضی میں دیکھنا چاہتی ہیں اورکچھ ایسی قوتیں بھی ہیں جو ہمیں ماضی سے نکالنا چاہتی ہیں۔ یہ جنگ قانون کی حکمرانی کی جنگ ہو یا نہ ہو مگر یہ جنگ ہمارے ماضی اور مستقبل کی جنگ ہے اور اس جنگ کا میدان ہے آج۔

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈرکیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔