دعا کریں مودی نہ جیتے

زمرد نقوی  پير 27 مئ 2024
www.facebook.com/shah Naqvi

www.facebook.com/shah Naqvi

آج کل بھارت انتخابات کے 7مرحلوں سے گزر رہا ہے۔ جس کا آغاز 19اپریل کو ہوا یکم جون کو یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا جب کہ نتائج کا حتمی اعلان 4جون کو کیا جائے گا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار جس کی آبادی ایک ارب 42کروڑ، چین کی آبادی ڈیڑھ ارب، دنیا کے دوسرے بڑے ملک میں 18ویں انتخابات ہو رہے ہیں۔

یہ انتخابات گزشتہ دو انتخابات کی طرح نسلی تعصب، دھمکیوں، الزامات، مذہبی منافرت اور شدت پسندی کے غبار میں منعقد ہو رہے ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 97کروڑ ووٹرز جن میں 47کروڑ خواتین ان کی تعداد تقریباً مرد ووٹروں کے برابر ہی ہے۔

ان انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ ایوان زیریں کی کل نشستوں کی تعداد 543ہے اس طرح 272نشستیں جیتنے والی پارٹی حکومت بنائے گی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ الیکشن مہنگا ترین ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق اس الیکشن پر مجموعی طور پر 20لاکھ کروڑ خرچ ہوں گے۔ جب کہ گزشتہ انتخابات میں 60ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔

بھارت کے پہلے پارلیمانی انتخابات اکتوبر 1951ء میں ہوئے جن پر صرف دس کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ اس طرح ہر امیدوار اپنی انتخابی مہم پر کم از کم 5کروڑ روپے خرچ کر سکے گا۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے سرمایہ دارانہ الیکشن وقت کے ساتھ مہنگے سے مہنگے ہوتے جا رہے ہیں جس نے عام شہریوں کا ان انتخابات میں حصہ لینا ناممکن بنا دیا ہے اب اس جمہوریت میں صرف وہی لوگ الیکشن میں حصے لے سکیں گے جن کے پاس کالا دھن اور کرپشن کا پیسہ ہوگا۔

پاکستان اور بھارت دونوں میں ایک ہی جیسی صورتحال ہے۔ اب تو پاکستان میں کونسلر کا الیکشن کروڑوں میں پڑتا ہے۔ عوامی جمہوریت میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس طرح سے عام آدمی پر پارلیمنٹ اسمبلیوں کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ الیکشن صرف امیروں کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔

بھارتی قیادت نے آزادی حاصل کرنے کے بعد ڈھائی سال کے اندر جنوری 1950میں آئین کانفاذ کر دیا جب کہ پاکستان میں آئین کا نفاذ اگست 1973میں 26سال بعد ہوا اسی فرق نے پاکستان کو پستی میں دھکیل دیا۔ اور اس کے باوجود پاکستان میں آئین طویل عرصہ معطل بھی رہا۔ کیونکہ اشرافیہ اور عالمی سامراج کا مفاد اسی میں تھا کہ پاکستانی سر زمین بے آئین رہے۔

73سالہ انتخابی تاریخ میں بھارتی عوام نے دس مرتبہ کانگریس اور 5مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخاب کیا۔ 1996میں بھارتی تاریخ کے وہ الیکشن تھے جب پہلی مرتبہ ہندو انتہا پسندی ابھر کر سامنے آئی اور ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی 161 نشستوں پر کامیابی کے بعد سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ بھارت کا پندرھواں عام انتخاب 2009 میں ہوا۔ یہ وہ آخری انتخاب تھا جس میں کانگریس برسر اقتدار آئی۔ جب کہ 16واں2014عام انتخاب ایسا انتخاب ثابت ہوا جس کے بعد سے بی جے پی آج تک بر سر اقتدار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ عام انتخابات ایک ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جب بھارت 205لاکھ کروڑ روپے کا مقروض ہے جو بھارت کی جی ڈی پی کا 80فیصد بنتا ہے۔ بھارت اپنی پوری تاریخ میں کبھی بھی اس قدر مقروض نہیں رہا جب کہ اس مجموعی قرض میں سے صرف 18فیصد بیرونی قرض ہے۔

قرض میں یہ ہمالیائی اضافہ مودی سرکار کے دس برسوں میں ہوا ہے۔ 2014میں پہلی مرتبہ مودی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت قرض 49لاکھ کروڑ تھا لیکن قرض جیسا بھی ہو اسے ادا عوام نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ قرض کا مطلب زیادہ ٹیکس اور زیادہ ٹیکس کا مطلب زیادہ مہنگائی ہے۔

حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ کے بڑے بینچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس کر رہے تھے، نے قرار دیا کہ آرٹیکل 370ناقابل تنسیخ ہے جس کے ذریعے کشمیر کو بھارت کی ذیلی ریاست قرار دیا گیا ہے، ہندوتا نے بھارت کی مذہبی جنونیت کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ اب وہاں کسی مائی کے لال کی ہمت نہیں، چاہے وہ بھارتی سپریم کورٹ ہو یا کوئی اور ،کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کر سکے۔

اس کے لیے پاکستان کو ایٹمی جنگ لڑنی پڑے گی جس کی دنیا اجازت نہیں دے گی۔ کشمیر کے حل سے سویلین بالادستی جڑی ہوئی ہے جس سے پاکستان اپنے قیام سے محروم ہے۔ ہم نے کشمیر کے حل کا ہر موقعہ گنوایا خاص طور پر اٹل بہاری واچپائی کی پاکستان آمد کے موقعہ پر۔ دوست ملکوں کے مشورے کے باوجود ، کشمیر کے حل سے بچنے کے لیے کار گل کرایا گیا۔

اب مغربی طاقتیں اور عرب ممالک کوئی بھی اپنے بھارت سے جڑے معاشی مفادات کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے سوائے خالی خولی زبانی مذمت کے۔ بھارت اور کشمیر میں ہونیوالے مظالم پر۔ دعا کریں کہ مودی کو دو تہائی اکثریت نہ ملے ورنہ کروڑوں مسلمانوں کو دوبارہ سے ہندو کرنے کا آغاز ہو جائے گا جو بقول ہندو مذہبی جنونیوں کے’عہد غلامی ‘میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان ہوئے۔

انتہا پسند ہندو بھارت میں مسلمانوں کے بعد جس قسم کی متشددانہ مہم چلا رہے ہیں اس نے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔پاکستان مئی کے آخر سے جون کے آخر کے درمیان نحس وقت میں داخل ہو رہا ہے۔ اﷲ خیر کرے۔تفصیل آیندہ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔