کیا گیم چینجر منصوبہ ہماری تقدیر بدل دے گا؟

ڈاکٹر منصور نورانی  پير 27 مئ 2024
mnoorani08@hotmail.com

[email protected]

2014 میں جب سی پیک منصوبے پر باقاعدہ طور پر دستخط ہوگئے اور اس پر کام بھی شروع کردیا گیا تو ہمیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی قسمت بدل کر رکھ دے گا اور یہ ہمارے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔

آج اس بات کو دس سال ہوچکے ہیں اور ہم نے ان دس سالوں کے مکمل ہونے پر سرکاری طور پر اطمینان کا بھی اظہار کیا ہے، گویا اس منصوبے کی تکمیل کی رفتار اطمینان بخش قرار دی گئی، حالانکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ جن مقاصد کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا وہ مقاصد ابھی پورے نہ ہوئے ہیں ۔

اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا دوست نما دشمن ملک ہے جسے ہماری ترقی اور خوشحالی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔ دیکھا جائے تو میاں نوازشریف کی حکومت کو قبل از وقت فارغ کرنے کی پیچھے بھی کچھ ایسے ہی عوامل کارفرما تھے جن کا مقصد سی پیک منصوبے کو مکمل ہونے سے روکنا تھا یا کم از کم اس کی افادیت اور اہمیت کو ضایع کرنا تھا، جس میں بڑی حد تک ہمارے دشمنوں کو کامیابی حاصل ہوگئی۔

اس منصوبے پر2017 تک جس تیزی سے کام ہو رہا تھا وہ اگر جاری رہتا تو ہم یہ پندرہ سالہ منصوبہ آج 2024 میں یعنی دس سال کے مختصر عرصے میں یقینی مکمل کرچکے ہوتے۔ ہماری یہ برق رفتاری ہمارے دشمن کو پسند نہیں آئی۔ سیاسی اتھل پتھل اور سیاسی عدم استحکام کا رونا ہم اکثر روتے رہتے ہیں لیکن وہ جو اس عدم استحکام کے اصل ذمے دار ہیں ہم نے آج تک اُن کا احتساب نہیں کیا بلکہ انھیں کبھی مورد الزام تک نہیں ٹھہرایا۔ دیکھا جائے تو 1988 سے جو سیاسی عدم استحکام ہمارے یہاں پیدا کیا جاتا رہا ہے اس کے ذمے دار صرف ہمارے سیاستداں نہیں ہیں۔

ہاں ان کا قصور اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے وقتی فائدے کے لیے اُن پس پردہ عناصر کے آلہ کار بنتے رہے۔ اُن کی مجبوری یہ تھی کہ وہ اگر ایسا نہ کرتے تو کسی اور کو آلہ کار بنا لیا جاتا۔ سیاستدانوں کا اصل مقصد اور خواہش اقتدار کا حصول ہوتا ہے اور وہ اس مقصد کے لیے اپنے تمام اصول اور پرنسپل داؤ پر لگانے کے لیے بھی تیار ہوجاتے ہیں۔

2017 میں سی پیک پر بہت سا کام مکمل ہوچکا تھا کہ اچانک میاں نوازشریف کو پاناما اسکینڈل میں الجھا کر تخت سے بیدخل کر دیا گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہمارا ملک معاشی اور اقتصادی طور پر سنبھل نہیں سکا۔ تیزی سے ترقی کرتا ملک پیسہ پیسہ کا محتاج ہوگیا اور ایک وقت تو ایسا بھی آگیا کہ ساری دنیا میں ہمارے ڈیفالٹ ہوجانے کی خبریں عام ہونے لگیں۔ اسی دوران سری لنکا بھی ڈیفالٹ کرگیا اور لوگ ہمارا انجام بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے لگے۔

ہمارا یہ گیم چینجر منصوبہ ہماری مشکل بن گیا۔ میاں نواز شریف اگر اس منصوبے پر اپنی یہ دلچسپی نہ دکھاتے اوروہی کچھ کرتے رہتے جو جنرل ضیاء، جنرل مشرف یا ہمارے دیگرسیاستداں کرتے رہے ہیں تو شاید وہ بھی اپنے پانچ سال پورے کرجاتے، لیکن ایسا کرنا اُن کے مزاج میں شاید ہے ہی نہیں ہے، وہ آج بھی جب براہ راست وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے ہوئے نہیں ہیں لیکن باہر بیٹھ کر بھی اپنی اسی سوچ پر عمل پیرا ہیں۔SIFC کا منصوبہ جسے ہم پھر ایک گیم چینجر کا نام دے رہے ہیں۔

اُن کے ایسے ہی ارادوں کی غمازی کر رہا ہے، وہ جب جب برسراقتدار رہے کوئی نہ کوئی منصوبہ ایسا دیا کہ جسے ہماری تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔

پہلی بار 1990میں برسر اقتدار آئے تو قوم کو موٹرویز کا منصوبہ دیا۔ دوسری بار آئے تو اپنے چھوڑے ہوئے نامکمل منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیااورساتھ ہی ساتھ ملک کوایک مستند ایٹمی ریاست کا درجہ بھی دلوادیا۔ تیسری بار تشریف لائے تو سی پیک جیسے عظیم منصوبے کی نہ صرف داغ بیل ڈالی بلکہ اس پرکام بھی تیزی سے شروع کردیا، مگرافسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تینوں بار انھیں زبردستی اقتدار سے محروم اورمعزول کردیاگیا۔ دیکھا جائے تو ہمارے کسی اورسیاستداں کے نامہ اعمال میں ایسے کارنامے ہرگز درج نہیں ہیں۔

سی پیک منصوبہ کو بھی گیم چینجر کہاجاتا رہا لیکن وہ گیم چینجر ہماری خوشحالی کا سبب نہیں بن رہا ۔2017  سے جس زوال کی ابتداہوئی ہے وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ ہم آج بھی چند ملین ڈالرز کے لیے IMF کی منت سماجت کرتے ہوئے اپنی قوم پر جس کا اس تباہی میں کوئی کردار بھی نہیں ہے، مہنگائی کے بم برساتے جا رہے ہیں۔

سی پیک کے علاوہ بلوچستان کی زمین میں چھپے ہوئے بے شمار خزانوں کے بارے میں بھی ہمیں یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اگر دریافت کر لیے گئے تو ہماری قوم کی قسمت یقیناً بدل جائے گی، مگر ہمیں اس بارے میں بھی آج مایوسیوں کاسامنا ہے۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ اس پر ایک بار پھر کام شروع ہونے والا ہے لیکن یہاں یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ یہ منصوبے کے فوائد ابھی شروع ہی نہیںہوئے اور اس کا بٹوارہ کردیاگیا۔

اس عظیم الشان خزانے کو نکال باہرکرنے کے لیے جس کمپنی کوٹھیکہ دیاجا رہا ہے اس کا شیئر 50 فیصدہوگا، 25 فیصد بلوچستان کو ملے گا اورباقی 25 فیصد حکومت پاکستان یعنی ریاست کو ۔ مگر اس 25 فیصدمیں سے بھی ہم نے 15فیصد اب سعودی عرب کو دینے کا وعدہ کرلیا ہے ۔ اس طرح قوم کے حصہ میں صرف 10 فیصد ہی ملے گا۔گویا یہ گیم چینجر منصوبہ بھی ہماری قسمت نہیں بدل پائے گا۔ خزانہ ہمارا اور ثمرات کا وصول کنندہ کوئی اور۔

ہمارا تیسرا عظیم الشان منصوبہ جو شہبازشریف کے اس دور حکومت میں شروع کیاگیا ہے اورجس کا نام SIFCہے اس کے بارے میں بھی قوم کونوید سنائی جا رہی ہے کہ یہ بھی ہمارے لیے گیم چینجرثابت ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت بیرون ملک سے سرمایہ کاری کاانتظام کیا جارہا ہے اور ابتدائی طور پر تین دوست ممالک نے دس دس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کروائی دی ہے۔ یہ تین ممالک ایران ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔

ایران کے مرحوم صدرابراہیم ریئسی نے ابھی ایک ڈیڑھ ماہ قبل اپنے تاریخی دورہ پاکستان میں اس سرمایہ کاری کا وعدہ کیاتھا لیکن قدرت نے انھیں اس کے ایفا ہونے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالیا ۔ایرانی حکومت گیس لائن منصوبے کی عدم تکمیل پرہم سے ناراض ہے۔ ہم نے امریکی دباؤ پراس منصوبے پر اپنے حصے کا کام ابھی تک نہیں کیا۔ یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم امریکا کو یہ باور نہیں کروا سکے کہ یہ منصوبہ ہماری ضرورتوں کے لیے ناگزیر ہے اوراگر یہ ہم نے مکمل نہیںکیا تو ہمیں 18ارب ڈالر جرمانہ بھی اداکرنا پڑے گا۔

امریکی پابندیاں کا اطلاق صرف ہمارے ملک پرہی کیوں؟ جب کہ بھارت کھلی آزادی کے ساتھ ایران سے اپنے روابط اور تجارت کو فروغ دے رہا ہے اورساری قدغنیں صرف ہم پر ہی کیوں۔ ایران پرپابندیوں کااصل مقصد پاکستان پرپابندی ہے۔ ہماری یہی کمزوری ہمارے تمام گیم چینجرمنصوبوں کی ناکامی کااصل سبب ہے ، ہم جب تک کسی اورملک کے دباؤ میں اپنے فیصلے کرتے رہیں گے کبھی ترقی نہیں کر پائیںگے، اگر ایسا ہی رہا توسی پیک منصوبے کی طرحSIFC  منصوبہ بھی شاید ہی کبھی ہمارے خوابوں کی حسین تعبیر بن سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔