پرسکون زندگی گذارنے کے گُر

راضیہ سید  پير 27 مئ 2024
پرسکون زندگی اور صحت مند جسم کا گہرا تعلق ہے۔ (فوٹو: فائل)

پرسکون زندگی اور صحت مند جسم کا گہرا تعلق ہے۔ (فوٹو: فائل)

زندگی کسی کی بھی پرسکون نہیں ہوتی، کیونکہ ہر کسی کے راستے میں بہت سی مشکلات اور چیلنجز ہوتے ہیں جن سے روزانہ کی بنیاد پر نمٹنا پڑتا ہے۔ درحقیقت زندگی کو آسان اور پرسکون بنانا پڑتا ہے جس کےلیے تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مشکلات کم نہیں ہوتیں بلکہ ہم ان سے نمٹنے کا طریقہ سیکھ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اس قابل بنا لیتے ہیں کہ پریشانیوں اور مصائب کا سامنا کرسکیں۔

زندگی کو آسان بنانے کےلیے چند گُر ایسے ہیں جو اگر آپ سیکھ لیں تو زندگی میں کسی حد تک خوشگواری کی کیفیت پیدا کی جاسکتی ہے۔

رویوں میں لچک پیدا کیجیے

جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے ہمارے خیالات اور نظریات پختہ ہونے لگتے ہیں۔ ہم اپنی باتوں پر ڈٹ جاتے ہیں اور بہت کم کسی دوسرے کی سنتے ہیں۔ ہم دوسروں کو تو تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن خود اپنی سوچ اور رائے ان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس رویے سے ہمارے وقار میں کمی آتی ہے۔ زندگی بدلتی رہتی ہے، حالات اور واقعات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے، وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں نئی مہارتیں اور نئی چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ساتھ ہی اپنے رویوں کو تبدیل کرنا بھی ضروری ہوجاتا ہے۔

اچھا سامع بنیے

ہم ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ معلوم ہے اور لوگوں کو ہماری قابلیت کا لازمی علم ہونا چاہیے۔ جبکہ ایسا نہیں ہوتا کیونکہ علم اور مہارت مختلف نوعیت کی ہوتی ہے اور ہمیں اس حقیققت کو قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں دوسروں کے علم سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایسا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب ہم اچھے سامع ہوں۔ لوگوں کی باتوں کو سنیں۔ ہم بہت سی باتیں محض جواب دینے کےلیے سنتے ہیں ان کو سمجھنے کےلیے نہیں سنتے۔ فوری جواب دینے یا ردعمل سے ہمارا دوسروں پر زیادہ اچھا تاثر نہیں پڑتا۔

دوسروں کو نہ جانچنا

یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ ہم دنیا میں طرح طرح کے لوگوں سے ملتے ہیں جن کی عادات مختلف ہوتی ہیں اور ماحول بھی الگ ہوتا ہے۔ تعلیم و تربیت کا فرق بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ کسی کی اچھی بات سے متاثر ہوکر اس پر رشک کرنا یا کسی کی غلطی پر اس کو مکمل ہی غلط سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔ جو لوگ دوسروں کو جج کرتے ہیں اور اس کے بعد ان سے تعلقات قائم کرتے ہیں، کوئی بھی ان کا قدردان نہیں ہوتا۔ لوگوں کا اعتماد جیتنے کےلیے ضروری ہے کہ آپ انھیں عزت دیں۔ زندگی میں سمجھوتہ کریں۔ کسی کو عقل کل اور بالکل غلط نہ سمجھیں۔ اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر لوگوں سے ان کی فطرت اور عادت کے مطابق تعلقات قائم کریں۔

دل میں میل نہ رکھنا

انسانی فطرت ہے کہ ہم لوگوں کی غلط باتوں سے دل برداشتہ ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے رویے تکلیف پہنچاتے ہیں لیکن زندگی گزارنے کےلیے بہت سی تکلیف دہ باتوں کو بھلانا پڑتا ہے تاکہ لوگوں کے ساتھ افہام و تفہیم کے ساتھ بات چیت آگے بڑھائی جاسکے۔ دوسروں کو معاف کرنا زندگی میں ہمارے اپنے سکون کےلیے بہت ضروری ہے۔

بے جا تنقید نہ کرنا

یہ ایک ایسی خوبی ہے جو آپ کو بہت جلد ممتاز بنا دیتی ہے۔ دنیا میں ہر شخص بندے کو تعریف چاہیے، تنقید سے ہر کوئی گھبراتا ہے اور خاص طور پر بے جا تنقید کرنے والے کو کوئی پسند نہیں کرتا لیکن تعمیری تنقید ہمیشہ بہت کام بھی آتی ہے اور لوگ اس کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں۔

اپنی غلطی پر معذرت خواہ ہونا

دوسروں کو معاف کرنا تو اہم ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ اپنی غلطی پر معذرت خواہ ہونا ایک اچھے انسان ہونے کی دلیل ہے۔ تاہم ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ آپ ہر وقت معذرت خواہانہ انداز نہ اپنائیں اور صرف اپنی غلطی ہر ہی معافی مانگیں۔

دوسروں کو توجہ دینا

انسان کا ہر رشتہ توجہ اور وقت مانگتا ہے۔ اگر رشتوں کو وقت نہ دیا جائے اور اہمیت کا احساس نہ دلایا جائے تو اچھے تعلقات کبھی قائم نہیں رہ سکتے۔ جو لوگ خود سے وابستہ رشتوں کی قدر کرتے ہیں، انھیں اہمیت دیتے اور ان کا خیال کرتے ہیں وہ پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔

اپنی صحت کا خیال رکھنا

آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پرسکون زندگی اور صحت مند جسم کا گہرا تعلق ہے۔ جو شخص اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ سکتا وہ کسی دوسرے شخص کا خیال بھی نہیں رکھ سکتا۔ تندرستی ہزار نعمت ہے لہٰذا ہر کسی کو اپنی صحت کا ہر ممکن خیال رکھنا چاہیے۔

پرسکون زندگی کا معیار اور تصور ہر کسی کےلیے مختلف ہوسکتا ہے، لیکن مندرجہ بالا تمام خصوصیات کا ہونا ایک مطمئن زندگی کےلیے بہت ضروری ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راضیہ سید

راضیہ سید

بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ بیس سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔ بلاگز کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔