کراچی: عدالت کی پہلے کمرشل و صنعتی صارفین سے میونسپل چارجز وصولی کی تجویز

کورٹ رپورٹر  پير 27 مئ 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے بجلی بلوں میں میونسپل چارجز کیس کی سماعت کے دوران پہلے فیز میں کمرشل اور صنعتی صارفین پر ٹیکس لگانے کی تجویز دے دی۔

جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو بجلی کے بلوں میں میونسپل چارجز کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی، جس میں میئر کراچی کی جانب سے فوری سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورت نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔

اس موقع پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میری عدالت سے گزارش ہے کہ درخواست پر جلدی فیصلہ سنایا جائے۔ ہمیں سال کا بجٹ بنانا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہی ہم بجٹ بنا سکیں گے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیس میں 3 فریق اور بھی ہیں۔ بجٹ سے پہلے ویسے بھی کیس ختم نہیں ہوسکتا۔

درخواست گزار طارق منصور نے مؤقف دیا کہ میرے دیگر کیسز بھی ہیں، میں دلائل نہیں دے سکوں گا۔ اگلے بجٹ میں وفاق نے بھی کے ایم سی طرز پر یوٹیلیٹی سروسز کے بلوں کے ذریعے ٹیکس لگانے کا عندیہ دیا ہے۔ جہاں ڈھائی سال انتظار کیا ہے، ایک ماہ اور کرلیں، تفصیلی دلائل دینا چاہتا ہوں۔

مرتضیٰ وہاب نے اس موقع پر کہا کہ عدالت اگر حکم دے تو ناظر کے پاس ٹیکس کی رقم جمع ہوسکتی ہے۔ اب بھی 2 سو سے 5 ہزار تک ٹیکس موجود ہے، جو شہری ادا نہیں کرتے۔ عدالت نے تجویز دی کہ پہلے فیز میں کمرشل اور صنعتی صارفین پر ٹیکس لگائیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ میں عدالت کی تجویز پر کام شروع کرتا ہوں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے میئر کراچی کے ساتھ موجود شخص پر تشدد کا الزام لگایا اور کہا کہ 3 فروری کو میئر آفس میں مجھ پر حملہ کیا تھا۔ عدالت نے مذکورہ شخص کو روسٹرم پر بلا لیا۔ اس موقع پر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ یہ میری سکیورٹی کے لیے ہیں۔ یہ ایس ایس یو پولیس میں ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم ہے کہ ایس ایس یو صرف غیر ملکی شخصیات کے ساتھ ہوگی۔ آپ ایس ایس یو کی سکیورٹی استعمال نہیں کرسکتے۔ لوگ مارے جارہے ہیں، یہاں کوئی سکیورٹی نہیں ہے۔ من پسند لوگوں کو سکیورٹی دی جارہی ہے۔ عدالت نے ایس ایس یو اہلکار کو کمرہ عدالت سے باہر بھیج دیا۔

عدالت نے کے ایم سی کی فوری سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے فریقین کو 29 مئی کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔