پاکستان کو ’’گھریلو‘‘ اقتصادی منصوبہ بنانے کا برطانوی مشورہ

شہباز رانا  منگل 28 مئ 2024
طاقتور اشرافیہ میں شامل گروہوں کا جمود برقرار رکھنے کیلیے واضح معاہدہ، ڈیرکون اسٹیفن۔ فوٹو: فائل

طاقتور اشرافیہ میں شامل گروہوں کا جمود برقرار رکھنے کیلیے واضح معاہدہ، ڈیرکون اسٹیفن۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: ایک طرف برطانیہ نے پاکستان کو “گھریلو” اقتصادی منصوبہ تیار کرنے کا مشورہ دیا ہے.

آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے مسودے کو پہلے ہی حتمی شکل دی جا چکی ہے تو وزیر اعظم کا منصوبہ آؤٹ سورس کرنے کے اقدام کے بارے میں سرکاری حلقوں میں الجھن برقرار ہے۔

فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے پالیسی مشیر ڈیرکون سٹیفن اورگھریلواقتصادی ترقی کے منصوبے کی کمیٹی کے ارکان نے پیر کو پاکستانی حکام سے ملاقات کی۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اوروزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

رواں ماہ وزیر اعظم آفس نے پروفیسر سٹیفن ڈیرکون اور ڈاکٹر عدنان قادر کو شامل کر کے گھریلو اقتصادی ترقی کے منصوبے پر کمیٹی کی رکنیت میں توسیع کی۔سٹیفن ڈیرکون نے ملکی وسائل پر اشرافیہ کے قبضے کے بارے میں لکھا ہے جس کی وجہ سے ملک نیچے جارہا ہے۔

پروفیسر عدنان نے اس ماہ کے شروع میں یہ بھی کہا تھا کسی بھی عام ملک کو آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت نہیں ۔ حکومت نے ایف سی ڈی او کے عہدیداروں کو ایسے وقت میں شامل کیا ،جب اس نے آئی ایم ایف کی چھتری کے تحت مستقبل کی معاشی پالیسیوں کو قریباً حتمی شکل دی ہے۔ آئی ایم ایف کی چھتری سے باہر کسی بھی چیز کو نافذ کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔

وزارت منصوبہ بندی نے مستقبل کی ترقی کے شعبے کیلئے طویل مدتی فریم ورک بھی شیئر کیا ہے، جس میں برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی، توانائی، اور مساوات اور بااختیاریت، کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا ان ملاقاتوں کے دوران برطانیہ کی حکومت کو شامل کرنے کے مقصد کے متعلق وضاحت نہیں کی گئی جب ملک آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل دینے کے درمیان میں تھا۔آئی ایم ایف مشن سٹاف سطح کے معاہدے کے بغیر واپس جا چکا ہے اور قومی اسمبلی سے اپنے طے شدہ بجٹ کی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔

1973ء کے کاروباری قواعد کے تحت، اقتصادی منصوبہ بندی وزارت منصوبہ بندی کا کام ہے لیکن اس پر بڑے پیمانے پر وزارت خزانہ کا کردارچھایا ہوا ہے۔

آئی ایم ایف بھی اب درمیانی مدت کے اقتصادی تخمینوں کے متعلق وزارت منصوبہ بندی سے بمشکل مشاورت کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں معاشی پالیسیاں مالی استحکام کے حتمی مقصد کے ساتھ بنائی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں معاشی ترقی کا دم گھٹتا ہے۔ ہوم گرون کمیٹی کے ارکان بھی واضح نہیں ہیں کہ ان سے بجٹ کیلئے مشورہ لیا گیا تھا یا آئی ایم ایف پروگرام کیلئے۔

کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق وزیر اعظم، شرکاء میں سے ایک نے یہ نکتہ اٹھایا مقصد کی وضاحت حاصل کرنے اور پھر اس کے مطابق اسے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق 7 فیصد کی شرح سے مسلسل ترقی کر کے پاکستان معاشی مسائل پر قابو پا کر 2035ء تک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ترقی درمیانی مدت سے طویل مدتی تک 4% سے 5% کے لگ بھگ رہے گی بشرطیکہ اقتصادی استحکام برقرار رہے۔ وزارت منصوبہ بندی کا 5Es فریم ورک، جس میں برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی، توانائی، اور مساوات اور بااختیاریت کو بھی پاکستان کے پائیدار اقتصادی ترقی اور ترقی کے سفر میں اہم سنگ میل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

فریم ورک کا مقصد برآمدات کو فروغ دینا، علمی معیشت کی تعمیر، ماحولیاتی مسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، سستی اور پائیدار توانائی کیاحل یقینی بنانا، جامع اقتصادی ترقی اور صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کی خدمات تک عالمی رسائی کو فروغ دینا ہے۔

گزشتہ سال ایکسپریس ٹریبیون کو انٹرویو میں، ڈیرکون نے بتایا تھا پاکستان کی اشرافیہ ریاست کے وسائل اور طاقت پر قبضہ کرنے کی جنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ان کا محرک اقتصادی ترقی اور ترقی کو ترجیح نہیں دے گا۔

ڈیرکون نے دلیل دی طاقتور اشرافیہ کے گروہوں میں معروف سیاسی طبقے، کاروباری طبقے اور فوج میں سرکردہ افراد، سول سوسائٹی کی سرکردہ شخصیات، سول سروس کے سرکردہ ارکان، دانشوراورصحافی شامل ہیں۔

ڈیرکون کے مطابق، ان تمام گروہوں کا جمود برقرار رکھنے کیلئے واضح معاہدہ ہے، جس میں ترقی غالب سیاسی طبقے یا فوج کیلئے بنیادی محرک نہیں ہے۔ جو لوگ اقتدار میں نہیں، وہ اقتدار حاصل کرنے اور کلائنٹسٹ ریاست کو کنٹرول کرنے کیلئے کسی بھی استحکام میں خلل ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران کہا ملک تب تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک امن، استحکام، پالیسیوں اور اصلاحات کا تسلسل نہ ہو اور ان کی عدم موجودگی میں نوبل انعام یافتہ بھی نہیں ہو سکتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔