دہشت گردی، قربانی کی لازوال داستانیں رقم

ایڈیٹوریل  منگل 11 جون 2024
فوٹو : انٹرنیٹ

فوٹو : انٹرنیٹ

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سیکیورٹی فورسزکی گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت 7 جوان شہید ہوگئے، صدر مملکت آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، وزرائے اعلیٰ، گورنرز نے دہشت گردی کے واقعے پر اظہار مذمت کیا ہے اور دہشت گردوں کو کڑی سزا دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے، پاک فوج نے دہشت گردوں کے عزائم کو جس بہادری اور شجاعت کے ساتھ ناکام بنایا ہے، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ درحقیقت پاکستان نے عالمی امن کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کے 80 ہزار سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عوام نے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ پاکستان نے عالمی امن کو قائم رکھنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوئی ہیں۔

دوسری جانب ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ افغان طالبان کے افغانستان میں برسراقتدار آنے کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت جن چار پانچ ہزار دہشت گردوں کو واپس لے کر آئی تھی،  ان کے سلیپنگ سیل موجود تھے اور انھوں نے دوبارہ کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کی جڑوں کا خاتمہ نہیں کیا گیا اور ان کے تعلقات نہیں مٹائے گئے اور انھی کا وہ اب استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی کارروائیاں افغانستان کے اندر طالبان میں دو متوازی پالیسی حلقوں قومی تعمیر اور جہادی نظریے کا شاخسانہ بھی ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کے اندر ابھی تک دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ افغانستان کی عبوری حکومت ان دہشت گردوں کی حفاظت کررہی ہے۔ سرحد پار سے آنے والے یہ خطرات علاقائی سلامتی کے لیے مزید پیچیدہ بنتے جا رہے ہیں اور چینیوں کی سیکیورٹی کو بھی یہ خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

پاکستان نے یہ مسئلہ افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے اور ان پر زور بھی دیا ہے کہ وہاں جو گروہ دہشت گردی کر رہے ہیں، انھیں روکیں اور ان کے خلاف کارروائی کریں، لیکن ابھی تک افغانستان سے کوئی اچھے نتائج سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ کابل میں افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ، اس کا مقصد بھی ریاست پاکستان کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرے اور افغانستان میں پناہ حاصل کرنے والے جنگجوؤں کی پاکستان واپسی کے لیے کسی طریقہ کار پر آمادگی ہو۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے اس حوالے سے پاکستان کو کہا بھی کہ وہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرے لیکن ان کا نتیجہ وہی نکلا جو ماضی میں ایسے مذاکرات کا نکلتا رہا ہے ۔عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو افغانستان کی عبوری حکومت، تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کوئی واضح کارروائی کرنے سے گریزاں ہے اور افغان طالبان اس وقت ٹی ٹی پی کو بطور بارگیننگ چپ بھی استعمال کر رہے ہیں، پاکستان کے اندر بھی ایک بااثر گروہ افغانستان کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا عادی ہے، یہ پاکستانی گروہ اپنے مالی مفادات کو بچانے کے لیے ریاست پاکستان کو اپنی پالیسی پر مجبور کرنے کے لیے افغانستان کے وار لارڈز کا سہارا لیتا ہے ، اسی لیے یہ گروہ سابقہ فاٹا اور پاٹا میں قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ یہ سلسلہ چند برس سے شروع نہیں ہوا بلکہ قیام پاکستان کے فوراً بعد سے شروع ہوگیا تھا۔

بہرحال افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے حق میں نہیں ہیں، اور نہ ہی وہ ٹی ٹی پی کی افغانستان کی سرزمین پر موجودگی کو غلط سمجھتے ہیں اور افغان طالبان وقتی طور پر اس مدعے پر مٹی ڈالنے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ہونا تو چاہیے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں سے روکیں اور خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں مگر وہ ایسا ہرگز نہیں کر رہے ہیں۔طالبان کی پالیسیاں پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

پاکستان میں تنظیموں اور اداروں کے ذریعے خیراتی و رفاہی کاموں کے لیے رقم اکٹھا کرنا ایک بہترین اور پرانا رواج ہے۔ دنیا بھر میں واقع ہونے والے بدترین آفات اور انسانی بحرانوں کے تعلق سے فنڈ جمع کیے جاتے ہیں۔ رقم کا ایک بڑا حصہ مختلف خیراتی پروگراموں کے ساتھ رابطوں کی مدد سے اکٹھا کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ تہواروں اور مختلف نجی پیمانے پر تنظیموں اور اداروں کی ایک بڑی تعداد کے ذریعے حاجت مندوں کے لیے مسلسل چندے جمع ہوتے رہتے ہیں۔

اس طرح کے چندے مختلف طبقوں کے ذریعے باقاعدہ طور پر بھی جمع کیے جاتے ہیں، گو یہ جمع شدہ فنڈ مختلف تنظیموں اور جماعتوں کے پاس ان کے خیراتی منصوبوں میں تعاون کرنے کے لیے دستیاب فنڈز کی ایک بڑی مقدارکی نمایندگی کرتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ عوام چندہ دینے سے قبل باریکی سے جانچ کر لیں، کہ ان کی رقم کہاں خرچ ہوگی یا اسے کس کام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ جو فنڈز خیراتی اور فلاحی کاموں کی آڑ میں جمع کیے گئے وہ دہشت گردی یا ان گروہوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوں جو دہشت گردی کو اپناتے ہیں۔ بعض گروہوں کی جانب سے ایسی تنظیمیں قائم کی جاتی ہیں جن کا واحد مقصد دہشت گردی اور اس میں ملوث دہشت گردوں کی حمایت کرنا ہوتا ہے۔

یہ ایسی بات ہے جس پر قومی سطح پر مزید توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے ریاستی تضادات بھی آشکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے عوام ٹی ٹی پی سے مکمل طور پر جان چھڑانا چاہ رہے ہیں جب کہ پاکستان کے وسائل پر پلنے والا ایک مخصوص مراعات یافتہ گروہ پسِ پردہ ان دہشت گرد جتھوں کی سہولت کاری میں ملوث ہے۔ افغانستان میں اگر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی بات کی جائے تو اس ضمن میں بھی ریاست پاکستان کے اندرونی تضادات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ہمیں دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ انھوں نے اس مقصد کے لیے کیسے اسپیشل ٹاسک فورسز بنائیں، جیسے کہ الجیریا، برطانیہ، ترکی، پیرو، سری لنکا، اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ کے تجربات کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسزکو الجیریا کے تجربات سے رہنمائی مل سکتی ہے کہ انھوں نے انتہاپسند دہشت گرد تنظیموں سے کیسے نمٹا؟ الجیریا والوں نے ان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور انھیں بالآخر شکست دی۔ ان کے طریقہ کار کو جانچا جائے اور پاکستانی افسران یہ دیکھیں کہ پاکستانی کی صورتِ حال میں انسدادِ دہشت گردی کا کون سا ماڈل کار گر ہوسکتا ہے۔ الجیرین فوج اور پولیس نے انتہاپسندوںکے قلع قمع کے لیے انتہائی اقدامات کیے۔ جن میں ان کے حمایتی افراد، مالی مددگاروں کو قابوکیا گیا۔ الجیرین حکومت نے عسکریت پسندوں کے مظالم کو میڈیا کے ذریعے اجاگرکیا۔

جنگ کے آخری مرحلے میں الجیریا نے بلا مشروط ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان بھی کیا۔ عام معافی امن کے چارٹر اور قومی مفاہمتی پالیسی کا حصہ تھی جس کی وجہ سے بچے کھچے لوگوں نے فوری طور پر ہتھیار ڈال دیے۔ پاکستان کے پاس بھی وسائل کم ہیں اور اس کا سامنا دہشت گرد گروہوں کی ایک بڑی تعداد سے ہے، اس لیے اسے انتہائی اسمارٹ انداز میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا چاہیے۔ انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی زیادہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

پولیس کو کہا گیا کہ وہ شہروں میں اور دیہی علاقوں میں آپریشن کرے۔ تحریک طالبان منظم طریقے سے پاکستان پر حملہ آور ہو چکی ہے، افغانستان کے حکمران اپنی کھال بچانے کے لیے پاکستان کو ہدف بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور پیچھے بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ حالانکہ طالبان حکومت نے دوہا میں جو وعدے کیے تھے، انھیں ان وعدوں کو پورا کرنا چاہیے لیکن وہ اقوام عالم کو اپنی طرز حکومت سے ابھی تک متاثر نہیں کرسکے ہیں۔ان مشکل حالات میں پاکستان میں سیاسی قیادت کا کردارکمزور ہے۔

پاپولر سیاسی قیادت انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف کوئی مضبوط بیانیے تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔کسی بڑی سیاسی جماعت نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کبھی کوئی پالیسی بیان جاری نہیں کیا اور نہ انتخابی منشور میں اس خطرے کو اولین ترجیحات میں رکھا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو پاکستان کے استحکام کے لیے ایک سوچ رکھنے کی ضرورت ہے اور ایک ایجنڈے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جو سیاسی جماعت اور اس کی قیادت انتہاپسندی اور دہشت گردی کو سنگین خطرہ نہیں سمجھتی ، وہ اس کے خلاف جنگ کیسے لڑ سکتی ہے ؟ وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے قانون سازی بھی نہیں کرسکتی ؟ پاکستان کا سسٹم ایسا بنا دیا گیا ہے کہ اس میں رہ کر دہشت گردوں اور انتہاپسند نظریات کا قلع قمع کرنا انتہائی مشکل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔