سیاست،مذاکرات اور مفاہمت

محمد سعید آرائیں  منگل 11 جون 2024
m_saeedarain@hotmail.com

[email protected]

جنرل پرویز مشرف دور کے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات واپس لے کر مفاہمت کا ماحول بنائے تاکہ سیاسی مفاہمت اور استحکام ہو ،ورنہ حکومت پگھلنے کا خطرہ ہے۔ بانی پی ٹی آئی کبھی ڈیل نہیں کریں گے لیکن انھوں نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا مگر یہ مذاکرات کسی ادارے، سفارتخانے یا عدالت کے بجائے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت نواز شریف سب سے زیادہ سیاسی فہم رکھنے والے لیڈر ہیں اور سیاسی مفاہمت کرانے کی سب سے زیادہ ذمے داری بھی نواز شریف پر ہی عائد ہوتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان سے انتقام لینے کا سوچا نہ دل میں کوئی کینہ رکھتا ہوں، نہ میں انتقام کی سیاست کرنے والا بندہ ہوں۔ طعنہ ہمیں دیا جاتا ہے مگر جمہوریت تو خود بانی پی ٹی آئی نے تباہ کی ہے اور وہ خود ہی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جو سیاستدانوں کے بجائے طاقتوروں کے ساتھ مذاکرات کی باتیں مسلسل کر رہے ہیں۔ ان کا رویہ 25 سال سے روٹھے ہوئے بندے کا ہے میں خود انھیں منانے بنی گالہ گیا تھا جو مسلسل دھمکیاں ہی دیتے آ رہے ہیں۔

(ن) لیگ کے ایک رہنما اور سابق وزیر اطلاعات مشاہد حسین سید کا بھی کہنا ہے کہ ملک میں اسٹریٹ پاور قیدی نمبر 804 کے ساتھ ہے جو صورت حال انجوائے کر رہے ہیں اور ہر طرف ڈیڈ لائن ہماری بدقسمتی ہے۔ ملک کی سیاست بانی پی ٹی آئی کے گرد گھوم رہی ہے جس سے انھیں مفت میں شہرت مل رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے ملک کی موجودہ صورت حال کا ذمے دار بانی پی ٹی آئی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش سے ملک کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے تو بانی اسے ناکام بنانے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے ایک بار کہا ہے کہ میں صرف ان سے بات کروں گا جو اصل طاقتور ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے ماضی کے اپنے شدید مخالف مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے جن پر وہ اپنی حکومت میں شدید الزامات لگایا کرتے تھے جس سے انھیں منع بھی کیا جاتا تھا مگر اب ان کی مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی سے مخالفت اس لیے محبت میں بدل گئی ہے کہ دونوں حکومت کے مخالف ہیں اور پی ٹی آئی ملک میں احتجاج کے لیے جے یو آئی کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔

مشاہد حسین سید کو غلط فہمی ہے کہ اسٹریٹ پاور قیدی نمبر 804 کے پاس ہے اگر ایسا ہوتا تو وہ خود احتجاج کی کال دیتے اور مولانا فضل الرحمن سے مدد نہ مانگتے۔ ملک میں اس وقت اسٹریٹ پاور صرف مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے اور وزیر اعلیٰ کے پی کی صرف گیدڑ بھبکی ہے کہ عمران کی کال پر کوئی اسلام آباد میں نہیں بیٹھ سکے گا۔

پی ٹی آئی کے پاس جب پنجاب اور کے پی کی حکومتیں تھیں اس وقت وہ پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تھے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاس کے پی حکومت ہوتے ہوئے بھی صرف دھمکیاں ہی رہ گئی ہیں جو وہ مسلسل دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اب بھی کے پی حکومت کے باوجود احتجاج کے لیے دوسری اپوزیشن جماعتوں کی محتاج ہے اور خود تو وہ اجازت کے باوجود روات میں جلسہ نہیں کر سکی تھی۔

ملک میں اسٹیبلشمنٹ کو طاقتور کہا جاتا ہے جس سے عمران خان مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جس نے کبھی کسی بھی لیڈر یا سیاسی جماعت کو مذاکرات کی دعوت نہیں دی اور نہ ہی اب بھی بار بار کی درخواستوں کے باوجود مذاکرات چاہتی ہے۔ عدلیہ بھی ایک طاقت ہے جو خود عمران خان کو سیاسی قوتوں سے مذاکرات کا کہہ چکی ہے مگر بانی پی ٹی آئی اب بھی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر بضد ہیں اور انھیں ہی طاقتور سمجھتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے مگر ان کے اقتدار میں آنے کا راستہ عدلیہ کے ذریعے ہی صاف کرایا گیا تھا جس نے اچھی بھلی نواز شریف حکومت ختم کرائی تھی۔ اس وقت بھی ملک میں دو طاقتیں واقعی طاقتور تھیں۔ عدلیہ کے ذریعے دو وزرائے اعظم نااہل ہوئے تھے ۔

حساس املاک پر 13 ماہ قبل 9 مئی کو پہلی بار ایسے حملے ہوئے جو ماضی میں نہیں ہوئے تھے جس کا اعتراف پی ٹی آئی بھی کرتی ہے مگر 9 مئی کے مجرموں کو عدلیہ سے کوئی سزا نہیں ملی اور ذمے دار ملزمان ہی نہیں بلکہ خود بانی پی ٹی آئی بھی مسلسل عدالتی ریلیف حاصل کر رہے ہیں ۔ عدلیہ میں ان کی حمایت کا تاثر مل رہا ہے۔ بہتر ہے کہ اپنے مقدمات پی ٹی آئی حکومت کے بجائے عدلیہ کے ذریعے ختم کرائے اور حکومت کا احسان نہ لے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔