چائلڈ لیبر کا خاتمہ کیا جائے

مدثر احمد طاہر  منگل 11 جون 2024
چائلڈ لیبر پاکستان میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ (فوٹو: فائل)

چائلڈ لیبر پاکستان میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ (فوٹو: فائل)

چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن ہر سال 12 جون کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد چائلڈ لیبر سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور اس کے خاتمے کےلیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ 2002 میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی جانب سے شروع کیا گیا یہ دن بچوں کی مزدوری کا مقابلہ کرنے میں تعلیم اور سماجی تحفظ کے نظام کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

یہ مشاہدہ عام ہے کہ پنجاب کی مصروف گلیوں، اینٹوں کے بھٹوں، فیکٹریوں اور زرعی کھیتوں میں پانچ سال تک کی عمر کے بچے کم اجرت پر لمبے وقت تک کام کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ بچے اکثر خطرناک حالات کا سامنا کرتے ہیں، خطرناک مشینری، زہریلے کیمیکلز کو سنبھالتے ہیں، اور بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں۔ یہ سب کچھ چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہے ۔ چائلڈ لیبر کا شکار بچوں کے اہل خانہ کو درپیش معاشی مشکلات اور تعلیم کی اہمیت کے بارے میں شعور کی کمی ان کمسن بچوں کو مزدوری کی طرف راغب کرتی ہے۔

چائلڈ لیبر پاکستان میں، خاص طور پر صوبہ پنجاب میں ایک اہم مسئلہ ہے، باوجود اس کے کہ اسے حل کرنے کی متعدد کوششیں کی جارہی ہیں۔

پنجاب میں بچوں کی آبادی پنجاب کی کُل آبادی کا 44 فیصد ہے۔ پنجاب چائلڈ لیبر سروے (پی سی ایل ایس) 2019-2022 کے مطابق 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں میں چائلڈ لیبر کی شرح 13.4 فیصد ہے جبکہ 5 سے 17 سال کی عمر میں چائلڈ لیبر اور نوعمروں میں خطرناک الفاظ کا پھیلاؤ 16.9 فیصد ہے۔ لاکھوں بچے مزدوری سے وابستہ ہیں۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عالمی سطح پر چائلڈ لیبر کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ پنجاب ملک میں چائلڈ لیبر کے مسئلے کا ایک بڑا حصہ برداشت کرتا ہے۔

پنجاب میں چائلڈ لیبر کے پھیلاؤ کی وجوہات اور نتائج کو کئی عوامل سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس کی پہلی اور بنیادی وجہ غربت ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے خاندان اکثر بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے اپنے بچوں کے ذریعے پیدا کردہ آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ معاشی مجبوری بہت سے والدین کو اپنے بچوں کو اسکول کے بجائے کام پر بھیجنے پر مجبور کرتی ہے۔

دوسری بات تعلیم کا فقدان ہے۔ معیاری تعلیم تک ناکافی رسائی اور اسکول چھوڑنے کی بلند شرح بچوں کی مزدوری کے مسئلے میں اضافہ کرتی ہے۔ بہت سے بچے جو وقت سے پہلے اسکول چھوڑ دیتے ہیں، وہ استحصالی مزدوری کے حالات میں ختم ہوجاتے ہیں۔ مزید برآں، ثقافتی اقدار ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کچھ برادریوں میں، فیملی کی آمدنی میں حصہ ڈالنے کے ذریعے کے طور پر چائلڈ لیبر کو ثقافتی طور پر قبول کیا جاتا ہے، جس سے استحصال کے چکر کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں، والدین کی بچوں کی پرورش خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔

والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بچوں کی دیکھ بھال کی بنیادی اور لازمی ذمے داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ غربت کی وجہ سے بچوں کو کام پر رکھنا ان کی صحت اور بچپن پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ جس سے انہیں جنسی تشدد، جسمانی تشدد، ذہنی تناؤ اور طاقت کے زیادہ استعمال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ صورت حال بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، جس کا آغاز ان کے والدین کی محبت سے محرومی سے ہوتا ہے اور تعلیم اور کھیل کے حقوق تک پھیل جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو کام کی جگہ کے بجائے اسکول بھیجیں کیونکہ تعلیم بچوں کا بنیادی حق اور والدین کی ذمئ داری ہے۔ اگرچہ بچوں کو کام پر رکھنے سے آمدنی کم ہوسکتی ہے، لیکن نقصانات نمایاں ہیں۔ بچے جن اوقات میں کام کرتے ہیں وہ انہیں خطرات میں گھیر لیتا ہے۔ بچوں کو کام پر لگا کر والدین نہ صرف اپنے بچوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ انہیں مناسب بچپن کے حق سے بھی محروم کرتے ہیں۔

پاکستان نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کےلیے متعدد بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کی ہے جن میں اقوام متحدہ کا کنونشن برائے حقوق اطفال (یو این سی آر سی) اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کنونشن نمبر 138 اور نمبر 182 شامل ہیں۔

آئیے موجودہ قوانین اور پالیسیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر کا مقابلہ کرنے کےلیے متعدد قوانین موجود ہیں، جن میں بچوں کا روزگار ایکٹ 1991، بچوں کے روزگار پر پنجاب پابندی ایکٹ 2016، اور پنجاب بے سہارا اور نظر انداز شدہ بچوں کا ایکٹ 2004 شامل ہیں۔ یہ قوانین عمر کی حد مقرر کرتے ہیں اور بچوں کے کام کی اقسام کو منظم کرتے ہیں۔ تاہم، مختلف خامیوں اور نفاذ کے چیلنجز کی وجہ سے ان کی تاثیر اکثر محدود ہوتی ہے۔

چائلڈ لیبر سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کےلیے، بچوں کو افرادی قوت میں لانے والی سماجی و اقتصادی بنیادی وجوہات کو حل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس میں جامع حکمت عملی شامل ہے جو محض پابندی اور سزاؤں سے آگے بڑھ کر ایک ایسا ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے جہاں بچوں اور ان کے اہل خانہ کو پائیدار معاش کےلیے درکار وسائل اور مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ غربت بچوں کی مزدوری کا بنیادی محرک ہے۔ غربت میں مبتلا خاندان اکثر بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے اپنے بچوں کے ذریعے پیدا کردہ آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ لہٰذا غربت کے خاتمے کے موثر پروگرام ضروری ہیں۔

موجودہ قوانین کے نفاذ کو بہتر بنا کر اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلیے مزید سخت سزائیں متعارف کروا کر قانون کے نفاذ کو مضبوط بنایا جائے۔ مزید برآں، ضرورت مند خاندانوں کی مدد کےلیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو وسعت دینے سے بچوں کی مزدوری پر ان کا انحصار کم ہوسکتا ہے۔ کمیونٹی کی شمولیت وکالت کے ذریعے چائلڈ لیبر کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور ثقافتی رویوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جامع اور پائیدار حل تخلیق کرنے کےلیے سرکاری اداروں، این جی اوز، بین الاقوامی تنظیموں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

پنجاب اور پاکستان بھر میں چائلڈ لیبر کی سماجی و اقتصادی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کےلیے کثیرالجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جس میں غربت کے خاتمے، معیاری تعلیم تک رسائی، سماجی تحفظ، کمیونٹی کی شمولیت، قانونی اصلاحات اور معاشی ترقی کو یکجا کیا جائے۔ جامع اور پائیدار حکمت عملی پر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان ایک ایسا ماحول تشکیل دے سکتا ہے جہاں بچے سیکھنے، کھیلنے اور بڑھنے کےلیے آزاد ہوں اور بالآخر چائلڈ لیبر کے چکر کو توڑ کر روشن مستقبل کی راہ ہموار کریں۔

پنجاب میں چائلڈ لیبر کی حالت ایک نازک مسئلہ ہے جس پر فوری اور مسلسل کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف ایک اخلاقی ضرورت ہے بلکہ پنجاب کے بچوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کےلیے ضروری قدم بھی ہے۔ بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور موثر اقدامات پر عمل درآمد کے ذریعے، ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف کام کرسکتے ہیں جہاں ہر بچے کو ایک محفوظ اور پرورش پذیر ماحول میں بڑھنے، سیکھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع ملے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مدثر احمد طاہر

مدثر احمد طاہر

بلاگر بچوں کے حقوق کے کارکن اور سرچ فار جسٹس، لاہور میں پروگرام آفیسر ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔