ایک عجیب کھیل جس میں سالانہ لاکھوں پرندے ہلاک ہوجاتے ہیں

ویب ڈیسک  بدھ 4 جولائی 2018
تائیوان میں ہرسال لاکھوں کبوتر ریس کے مقابلے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ اوڈٹی سینٹرل

تائیوان میں ہرسال لاکھوں کبوتر ریس کے مقابلے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ اوڈٹی سینٹرل

تائیوان: تائیوان میں ہر سال ایک متنازعہ اور دردناک کھیل منعقد ہوتا ہے جسے کبوتروں کی سمندری دوڑ کہا جاتا ہے۔ اس میں کبوتروں کو دور سمندر میں چھوڑا جاتا ہے اور شرطیں لگائی جاتی ہیں لیکن صرف ایک فیصد پرندے ہی گھر پہنچ پاتے ہیں اور باقی راستے میں مرجاتے ہیں۔

ہر سال کبوتروں کی بڑی تعداد کو بحری جہازوں میں بھر کر سمندر کی درمیان چھوڑا جاتا ہے لیکن ان کی اکثریت خشکی پر نہیں پہنچ پاتی ۔ تائیوان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر یہ مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے اور کم سے کم 5 لاکھ  کبوتروں کو سمندر سے اڑایا جاتا ہے۔ ان کبوتروں پر اربوں تائیوانی ڈالر کی رقم بطور جوا لگائی جاتی ہے۔ کبوتروں کو توانا بنانے کے لئے نشہ آور دوا بھی دی جاتی ہے۔

تائیوان کی نیشنل پنگ ٹونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق یہ ایک بہت بڑا کاروبار ہے جس میں بچے اور بڑے سبھی حصہ لیتے ہیں لیکن پرندوں کو ڈبوں میں باقاعدہ ٹھونسا جاتا ہے اورانہیں آزاد کرکے دیکھا جاتا ہے کہ کونسا پرندہ پہلے اپنے گھر پہنچتا ہے۔

پہلے مرحلے میں پرندے بے حال ہوکر نیم جان ہوجاتے ہیں اور ہر سال لاکھوں پرندے راہ بھٹک جاتے ہیں یا پھر تیز سمندری ہواؤں کی نذر ہوکر مر جاتے ہیں۔ یوں انسانی کھیل میں لاکھوں کبوتر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیم پی ٹا کے مطابق کبھی تو پرندے اس شدت سے گرتے ہیں کہ مردہ کبوتروں کی بارش کا گمان ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے سمندر کا ایک وسیع حصہ مردہ کبوتروں کا قبرستان بن جاتا ہے۔

اس ریس پر لگی رقم جیتنے کے لیے کبوتر مالکان ہر ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ کبوتروں کو نشہ دینا، اچھے کبوتر چوری کرنا اور ان کے پاؤں میں چھلے کے نمبر بھی تبدیل کئے جاتے ہیں۔ تاہم اب تائیوانی پولیس متحرک ہوکر اس کبوتر کش کھیل کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

2015 میں جواریوں کے اڈوں پر چھاپہ مارک کر 36 لاکھ امریکی ڈالر ، کمپیوٹر اور پرندے ضبط کرکے 164 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم اب بھی چوری چھپے یہ کام جاری ہے جس پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔