نوازشریف کو14 سال قید اورجائیداد ضبط ہوسکتی ہے، بابراعوان

ویب ڈیسک  جمعرات 5 جولائی 2018

ملزمان نہ ہوں تو ان کے نمائندے کی موجودگی میں سزا سنائی جاسکتی ہے، بابراعوان: فوٹو: فائل

ملزمان نہ ہوں تو ان کے نمائندے کی موجودگی میں سزا سنائی جاسکتی ہے، بابراعوان: فوٹو: فائل

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو 14 سال قید اور جائیداد ضبطگی کی سزا ہوسکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بابراعوان نے کہا کہ ملزمان نہ ہوں تو ان کے نمائندے کی موجودگی میں سزا سنائی جاسکتی ہے۔ نواز شریف پہلے کہتے رہے کہ عدالت بلائے گی تو واپس آجائیں گے، نواز شریف نے فیصلہ موخر کرنے کی عجیب  فرمائش کی  ہے کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملزم کی درخواست پر فیصلے کی تاریخ بدل دی جائے۔ نواز شریف شیر بنیں اور واپس آجائیں، آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ اورآپ کا خاندان مفرورہو۔

بابر اعوان نے کہا کہ بڈھے شیر کے چھوٹے مفرور ملک سے پہلے ہی بھاگ چکے ہیں، نیب قانون کے مطابق ملزم اس جائیداد کا مالک ہے جب تک وہ غلط ثابت نہیں ہوتا، سزا کے بعد کوئی کمپنی اسے نا تو ملازم رکھ سکے گی اور نا ہی اسے بینک سے کوئی سہولت ملے گی اور ملزم کوسزا میں جرمانہ چوری کی رقم کا دوگنا ہوگا۔ نوازشریف کو 14 سال قید اور جائیداد ضبطگی کی سزا ہوسکتی ہے جب کہ ان کے بچوں کوغیرحاضری کی صورت میں تین سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔