لوٹی گئی دولت بیرون ملک سے واپس لانے کیلئے پیشرفت رپورٹ طلب

ویب ڈیسک  بدھ 19 ستمبر 2018
پاکستانیوں کی ایک ہزار ارب کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں، چیف جسٹس فوٹو:فائل

پاکستانیوں کی ایک ہزار ارب کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں، چیف جسٹس فوٹو:فائل

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کی ایک ہزار ارب کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں جب کہ عدالت نے لوٹی گئی دولت بیرون ملک سے واپس لانے کیلئے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔  چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ حکومتی ادارے اسمگلنگ کیوں نہیں روک پا رہے؟، اسمگلنگ سے معیشت کو نقصان ہو رہا ہے، لاھور کے نیلا گنبد اور کارخانو مارکیٹ پشاور اسمگلنگ کے مال سے بھری پڑی ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حوالہ اور ہنڈی کو روکنے کے لئے قانون سازی کررہے ہیں، اسمگلنگ روکنے کے لئے بھی قوانین بنا رہے ہیں، برطانیہ کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ ہوا ہے اور وہاں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا، حوالہ میں ملوث 44 افراد کو پنڈی سے گرفتار کرلیا گیا ہے، مزید کئی افراد کی گرفتاری کے لئے کام کررہے ہیں، پشاور سے غیر قانونی 119 ملین روپے قبضے میں لئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے ایک ہزار ارب باہرپڑے ہیں، سپریم کورٹ

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اصل کام لوٹی رقم واپس لانا ہے، کیا ایک ڈالر بھی ملک میں واپس آیا ہے؟۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، انشاء اللہ فرق نظر آئے گا، 550 افراد سے پوچھ گچھ کی جائیگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 15 سے 20 بڑے افراد کے نام عدالت کو فراہم کریں، عاشورہ کے بعد سب کو طلب کریں گے، پاکستانیوں کی ایک ہزار ارب سے زائد کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں، کیا عدالت ان پاکستانیوں کو طلب نہیں کر سکتی؟، عدالت پر کسی کو اعتراض ہے تو حکومت کام کرکے آگاہ کرے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ جائیداد کے مالکان کو پہلے طلب کرکے ملکیت کا پوچھیں گے، عدالت ایک ماہ کا وقت دے پیش رفت رپورٹ دینگے۔ سپریم کورٹ نے لوٹی گئی دولت بیرون ملک سے واپس لانے کیلئے قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے حکم دیا کہ ہر دو ہفتے بعد پیش رفت رپورٹ سے آگاہ کیا جائے۔ کیس کی سماعت 15 روز کے لیے ملتوی کردی گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔