انڈونیشیا میں لاپتہ مسافر بردار طیارے کا سمندر برد ہونے کا خدشہ

ویب ڈیسک  ہفتہ 9 جنوری 2021
سری وجیہ طیارے میں 50 سے زائد مسافر سوار تھے، فوٹو : فائل

سری وجیہ طیارے میں 50 سے زائد مسافر سوار تھے، فوٹو : فائل

جکارتہ: انڈونیشیا میں 60 سے زائد مسافروں کو لیکر اُڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد والا لاپتہ ہونے والے طیارے کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیارہ سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے درالحکومت سے اُڑان بھرنے والا سری وجیہ ایئر کے بوئنگ 737 طیارے کا تھوڑی دیر بعد ہی کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ طیارے میں 50 مسافر اور عملے کے 12 اہلکار سوار تھے۔

مسافر بردار طیارے کے لاپتہ ہونے کے فوری بعد سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ طیارے کے رُوٹ مغربی صوبے کلیمانتان کے پوٹینیاک جانے والے راستے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

Indonesia plane 1

فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹڈار 24 ڈاٹ کام کے مطابق سری وجیہ ایئر کے بوئنگ 737 طیارے نے ایک منٹ سے بھی کم عرصے میں 10 ہزار فٹ بلندی سے نیچے آیا تھا۔

جس وقت طیارے نے پرواز بھری اُس وقت بارش ہورہی تھی اور ایک ماہی گیر نے بتایا کہ سمندر میں ایک زور دار دھماکا سنا تھا جس کے بعد ہم نے واپس ساحل پر آنے کا فیصلہ کیا۔

Indonesia plane 3

انڈونیشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ نے میڈیا کو بتایا کہ طیارے کی تلاش اور ممکنہ حادثے سے بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں۔ تلاش کے دوران طیارے کے چند ٹوٹے ہوئے کیبلز اور تار ملے ہیں۔

Indonesia plane 2

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں اسی ماڈل کے دو طیارے حادثات کا شکار ہوئے ہیں، اکتوبر 2018 میں انڈونیشیا کی لائن ایئر کی ایک پرواز سمندر برد ہو گئی تھی جس میں 189 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس خبر سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔