یہ خوبصورت پودا ’خفیہ گوشت خور‘ ہے!

ویب ڈیسک  بدھ 11 اگست 2021
یہ 20 سال بعد دریافت ہونے والا پہلا گوشت خور پودا بھی ہے جو کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ 20 سال بعد دریافت ہونے والا پہلا گوشت خور پودا بھی ہے جو کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

وینکوور: کینیڈین سائنسدانوں نے شمالی امریکا کے ایک خوبصورت پودے کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ یہ ’گوشت خور‘ بھی ہے اور کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی غذائی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سائنسی زبان میں ٹرائی اینتھا آکسی ڈینٹالس (Triantha occidentalis) کہلانے والے اس پودے کو دنیا بھر میں ’’جعلی جنتی پودا‘‘ (false asphodel) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے پھول سفید اور شوخ زرد رنگ کے ہوتے ہیں جو بہت خوبصورت لگتے ہیں۔

سائنسی لٹریچر میں اس کا اوّلین حوالہ 1879 میں دیا گیا لیکن اب تک اسے ایک خوبصورت لیکن عام سا پودا ہی سمجھا جاتا تھا۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور کے شون گراہم اور ان کے ساتھیوں نے پچھلے سال ایک اور تحقیق کے دوران اتفاقیہ طور پر اس پودے میں گوشت خور خصوصیات دریافت کرلیں؛ اور یوں یہ 20 سال بعد دریافت ہونے والا پہلا گوشت خور پودا بھی قرار پایا ہے۔

برطانیہ میں فطری تاریخ کے عجائب گھر (نیچرل ہسٹری میوزیم) کے مطابق، اب تک دنیا بھر میں گوشت خور پودوں کی صرف 630 انواع ہی دریافت ہوئی ہیں۔

اب تک زیادہ تر گوشت خور پودے گرم، مرطوب اور گھنے جنگلات والے علاقوں میں دریافت ہوئے ہیں جہاں زمینی سطح تک سورج کی روشنی بہت کم پہنچ پاتی ہے۔

کم دھوپ ملنے کی وجہ سے یہ پودے اپنی ضرورت سے کم غذا بنا پاتے ہیں اور عموماً کیڑے مکوڑوں کا ’’شکار‘‘ کرکے یہ کمی پوری کرتے ہیں۔

ان کے برعکس، شمالی امریکا کا ’’جعلی جنتی پودا‘‘ کھلی جگہوں میں عام اُگتا ہے جہاں وافر مقدار میں دھوپ پہنچتی ہے لیکن پھر بھی یہ چھوٹے کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتا ہے۔

’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ’’ٹریانتھا آکسی ڈینٹالس‘‘ کے پتلے تنے اور باریک شاخوں پر گوند جیسے مواد کی پتلی تہہ موجود ہوتی ہے۔

پودے کی شاخ یا تنے پر بیٹھنے والا کوئی بھی چھوٹا کیڑا وہیں چپک کر رہ جاتا ہے جسے یہ پودا اپنے ہاضم خامروں کے ذریعے گلا کر اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

مزید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ’’ٹریانتھا آکسی ڈینٹالس‘‘ اپنی ضرورت کی نصف غذا دھوپ کی مدد سے (فوٹو سنتھی سس یا ضیائی تالیف کہلانے والے عمل کے ذریعے) خود بناتا ہے جبکہ باقی نصف غذا کیڑے مکوڑوں کا شکار کرکے حاصل کرتا ہے۔

ارتقائی نقطہ نگاہ سے وافر دھوپ اور پانی والے علاقے میں، جہاں کی زمین بھی زرخیز ہو، گوشت خور پودے کی دریافت خاصی حیرت انگیز ہے۔

البتہ، اسے دریافت کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ شاید آج سے لاکھوں کروڑوں سال پہلے ’’ٹریانتھا آکسی ڈینٹالس‘‘ بھی کم دھوپ اور زیادہ نمی والے حالات میں وجود پذیر ہوا تھا۔

بعد ازاں ماحول بدلنے کی وجہ سے دھوپ اور پانی کی فراوانی ہوگئی لیکن اس پودے نے اپنی ابتدائی خصوصیات برقرار رکھیں۔ شاید اسی لیے یہ آج تک گوشت خور ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔