پاکستان کیخلاف سوشل میڈیا ٹرینڈ انڈیا میں بنتا ہے جسے پی ٹی ایم پھیلاتی ہے، فواد چوہدری

ویب ڈیسک  بدھ 11 اگست 2021
بھارت میں قومی سلامتی مشیر کے پاس جعلی خبریں پھیلانے کے لیے 333 کروڑ کا بجٹ ہے۔ (فوٹو: فائل)

بھارت میں قومی سلامتی مشیر کے پاس جعلی خبریں پھیلانے کے لیے 333 کروڑ کا بجٹ ہے۔ (فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا ٹرینڈ انڈیا سے چلائے جاتے ہیں، اور پی ٹی ایم ان بھارتی ٹرینڈز کو پاکستان میں پھیلاتی ہے، جب کہ اس ان ٹرینڈز میں افغانستان بھی پاکستان کے خلاف حصہ ڈالتا ہے۔ بھارت میں قومی سلامتی مشیر کے پاس جعلی خبریں پھیلانے کے لیے 333 کروڑ کا بجٹ ہے

ان خیالات کا اظہار وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے مشترکہ پریس کانفرنس  سے خطاب میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف جعلی خبریں پھیلائی جارہی ہیں، اورمیڈیا پراپیگنڈا میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہیں۔ سوشل میڈیا کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا ونگ نے سوشل میڈیا کا2 سال کا ڈیٹا مرتب کیا ہے، جس کے مطابق پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا ٹرینڈ انڈیا سے چلائے جاتے ہیں، پی ٹی ایم بھارتی ٹرینڈز کو پاکستان میں پھیلاتی ہے، افغانستان سے بھی پاکستان کے خلاف ٹرینڈز میں حصہ ڈالا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی ایم بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھی سپورٹ کررہی ہے اوربلوچستان کی علیحدگی کے بارے میں ٹرینڈ پی ٹی ایم نے شروع کیا، اور اس ٹرینڈ کو بھارت سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے فالو کیا، جب کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بھی ٹرینڈ چلائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ ٹرینڈ ’سینکشن پاکستان‘ میں پی ٹی ایم نے بھی اس میں حصہ ڈالا، یہ ٹرینڈ پاکستان میں 8 لاکھ بار ٹوئٹ ہوا، جب کہ افغان قومی سلامتی کے مشیر اور بھارت سے بھی سینکشن پاکستان ٹرینڈ ٹویٹ کیا گیا۔ کریما بلوچ کے  لیے پی ٹی ایم نے 30 ہزار ٹویٹ کیں، عثمان کاکڑ کے انتقال پر 10 ہزار ٹوئٹ کی گئیں۔

وفاقی وزیر اطلاعا ت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا کے بہت سے لوگوں نے غلط ٹرینڈز کو ہوا دی، پاکستان میں بہت سے لوگ فیک نیوز کو اصل سمجھ لیتے ہیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی، زلفی بخاری کے بارے میں ٹرینڈ اسرائیل سے شروع ہوا اورن لیگ نے بھی اسرائیل کی جانب سے شروع کردہ ٹرینڈ کو آگے بڑھایا۔ اسرائیل کے ٹوئٹر ٹرینڈ میں مسلم ن اور جے یو آئی ف کے لوگ شامل ہوگئے ہوسکتا ہے ن لیگ اور جے یو آئی ف کے لوگوں کو ٹرینڈ چلانے والوں کا معلوم نہ ہو

اسی طرح تحریک لبیک پاکستان کے ٹرینڈز کو بھی بھارت سے سپورٹ ملی، جب کہ فرقہ واریت پھیلانے کے لیے شعیہ سنی متنازعہ پوسٹ اور ٹوئٹس دوسرے ممالک سے کی جاتی ہیں، ’پرو قادیانی منسٹر‘ ٹرینڈ پر 1لاکھ 22 ہزارٹوئٹس ہوئیں اور اس میں سے زیادہ تر ٹویٹس بھارت سے ہوئیں۔ نور مقدم کیس پر بھارت سے ٹرینڈ چلایا گیا کہ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا کہ بھارت میں قومی سلامتی مشیر کے پاس جعلی خبریں پھیلانے کے لیے 333 کروڑ کا بجٹ ہے، بھارتی پراپیگنڈہ پر گزشتہ سال دستاویزات بھی پیش کی تھیں۔ بھارت نے دنیا کو کورونا کا غلط ڈیٹا فراہم کیا، برطانیہ کو دیکھنا ہوگا کہ غلط ڈیٹا دے کر بھارت ریڈ لسٹ سے نکلا۔

افغانستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مسئلے پر مثبت کردار ادا کررہا ہے، جھوٹا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ طالبان کو پاکستان کی سپورٹ حاصل ہے، افغانستان کا نقشہ دیکھیں پاکستان سے ملحقہ علاقوں میں ابھی امن ہے، پاکستان کے خلاف ٹرینڈز میں روبوٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔  افغانستان کی صورتحال دنیا کے سامنے ہے،طالبان اور افغان حکومت میں جنگ جاری ہے۔ افغانستان میں بد امنی کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوگا، امن کا افغان عہدیداروں سے زیادہ ادارک پاکستان کو ہے۔

پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کے لیے بھارت اور افغانستان میں بیٹھے لوگ ملوث ہیں، افغانستان میں 20 سال کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، بدقسمتی سے افغان حکومتی شخصیات پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ میں ملوث ہیں، افغان قومی سلامتی کے مشیر اس اہم عہدے کے قابل نہیں ہیں، پاکستان فیک نیوز اور پراپیگنڈہ دنیا کے سامنے رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف 5 بڑی تھیمز بلوچ نیشنل، مسلح افواج، سی پیک پر ٹارگٹ، فیٹف بلیک لسٹ اور افغان مسئلے کی ذمے داری پر پراپیگینڈا ہورہا ہےاور پاکستان کے اندر بیٹھے لوگ ان ٹرینڈز کو آگے چلارہے ہیں۔ سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی افغانستان کی مختلف ویڈیوز پرانی ہیں، پرانی ویڈیوز موجودہ حالات کی سپورٹ کے لیے سوشل میڈیا پر وائرل کی جارہی ہیں۔ پاکستان پر کسی قسم کی پابندیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پاکستان عوام پریشان نہ ہوں پاکستان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہونے جارہا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔