’برقی عصبی دانوں‘ سے دماغی امراض کا نیا علاج ممکن

ویب ڈیسک  ہفتہ 14 اگست 2021
تصویر میں بہت سے دماغی ذرات نظرآرہے ہیں جنہیں چوہوں پر آزمایا گیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ جائی ہون لی، براؤن یونیورسٹی

تصویر میں بہت سے دماغی ذرات نظرآرہے ہیں جنہیں چوہوں پر آزمایا گیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ جائی ہون لی، براؤن یونیورسٹی

 نیویارک: انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے باہمی تعلق (انٹرفیس) کےضمن میں اب ایک نئی ایجاد منظرِ عام پرآئی ہے۔ ان انتہائی باریک برقی ذرات کو ’نیورگرینس‘ یا عصبی ذرات کا نام دیا گیا ہے۔ یہ خود کار وائرلیس سینسر ہیں جن کی جسامت نمک کےبرابر ہے جو نہ صرف دماغ کی برقی سرگرمی کو نوٹ کرتے ہیں بلکہ دماغی کو تحریک دینے کا کام بھی کرسکتےہیں۔

برین کمپیوٹرانٹرفیس ( بی سی آئی) کے تناطر میں بہت تحقیق ہورہی ہے کہ کسی طرح بیرونی طور پر دماغ کو سگنل پہنچا کران کےنقائص کا ازالہ کیا جائے۔ اس کےلیے عموماً مائیکروچپ کو دماغ کے اندر نصب کیا جاتا ہے اور اس کی بدولت بیرونی آلات مثلاً کمپیوٹر اور وھیل چیئر وغیرہ کنٹرول کئے جاتے ہیں۔

اگرچہ ایک پیوند (امپلانٹ) مشکل سے چند سو نیورون کی سرگرمی ہی پڑھ پاتا ہے لیکن ضروری ہے کہ ایک وقت میں نیورون یعنی اعصابی خلیات کی بہت بڑی تعداد کو نوٹ کیا جائے اور اس ضمن میں بصری ذرات اہم کردار ادا کرسکتےہیں۔ اب ہر ایک برقی ذرہ آزادانہ طور پر نیورون کے برقی جھماکے نوٹ کرتا ہے اور انہیں وائرلیس طریقے سے مرکزی نظام کو بھیجتا ہے جہاں سگنل پروسیس کئے جاتے ہیں۔

یہ تحقیق نیچر الیکٹرانکس میں شائع ہوئی ہے جس میں 50 بصری دانوں کو استعمال کرتے ہوئے چوہے کی دماغی سرگرمی معلوم کی گئی ہے۔ اس طرح ایک جانب تو دماغ کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے تو دوسری جانب خود دماغ کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔ اس کےعلاوہ حرام مغز میں چوٹ کےبعد پیدا ہونےوالے مسائل کو حل کرنا بھی ممکن ہوگا۔

براؤن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر آرتو نورمائیکو اور ان کے ساتھیوں نے یہ نیوروذرات ڈیزائن کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دماغ کی ساری سرگرمیاں برقی عمل کی بدولت ممکن ہوتی ہے لیکن ضروری ہے کہ اس پورے عمل کو دیکھا جائے ناکہ چند پیوند سے کچھ اعصاب کی سرگرمی کو نوٹ کیا جائے۔ ’ اس سے قبل برقی دماغی پیوند گویا سوئیوں بھرے ٹکڑے تھے لیکن ہم نے اس کیفیت کو بدل کر اتنا انوکھا اور باریک بنایا ہے کہ اسے حرام مغز اور دماغی قشر میں جابجا پھیلایا جاسکتا ہے،‘ ڈاکٹر آرتو نے کہا۔

اس کام میں چار سال کا عرصہ لگا ہے جس کےلئے برقیات کو مختصر کرنا بہت ضروری تھا۔ ہر سلیکن برقی ذرے میں کئی شعبے کاڑھے گئے، جن میں کنٹرول، پروسیسنگ یونٹ اور دیگر گوشے رکھے گئے۔ پھر بیرونی رابطے کا نظام دوسرا بڑا چیلنج تھا۔ جو چپ سے سگنل وصول کرسکے اور بھیج بھی سکے۔ اس طرح ایک بصرے ذرے کو سیل فون ٹاور کہا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر ذراتی چپ کا ایک الگ نیٹ ورک ایڈریس ہوتا ہے جو وائرلیس کی بدولت توانائی لیتا ہے لیکن بہت ہی کم بجلی لیتا ہے۔

ٹیم نے چوہے کے دماغ پر 48 برقی ذرات لگائے جو دماغ کے بیرونی حصے ’سیربرل کارٹیکس‘ میں نصب کئے گئے تھے اور غیرمعمولی طور پر دماغی سرگرمی کو نوٹ کیا گیا۔  ماہرین پرامید ہیں کہ مستقبل میں اس سے کئی دماغی امراض کا علاج ممکن ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔