’’نیلی ہائیڈروجن‘‘ کوئلے سے بھی زیادہ ماحول دشمن ہے، تحقیق

ویب ڈیسک  منگل 17 اگست 2021
 نیلی ہائیڈروجن دراصل قدرتی گیس کی میتھین میں شامل ہائیڈروجن کو علیحدہ کرکے حاصل کی جاتی ہے، فوٹو: فائل

نیلی ہائیڈروجن دراصل قدرتی گیس کی میتھین میں شامل ہائیڈروجن کو علیحدہ کرکے حاصل کی جاتی ہے، فوٹو: فائل

اتھیکا، نیویارک: کورنیل یونیورسٹی اور اسٹینفرڈ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’’نیلی (بلیو) ہائیڈروجن‘‘ کو ماحول دوست قرار دینا بہت بڑی بھول ہوگی کیونکہ اسے تیار کرنے میں کوئلے سے بھی زیادہ آلودگی خارج ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ نیلی ہائیڈروجن دراصل قدرتی گیس کی میتھین میں شامل ہائیڈروجن کو علیحدہ کرکے حاصل کی جاتی ہے جس کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ توانائی کا بہتر اور ماحول دوست ذریعہ ہے۔

اس دعوے کا جائزہ لینے کےلیے کورنیل یونیورسٹی میں ماحولیات اور ماحولیاتی حیاتیات کے پروفیسر، رابرٹ ہووارتھ اور اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں تعمیراتی اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر مارک جیکبسن نے مشترکہ تحقیق کی۔

انہوں نے نیلی ہائیڈروجن بنانے کے عمل سے وابستہ ’’کاربن نقشِ قدم‘‘ (کاربن فُٹ پرنٹ) کا تجزیہ کیا۔

کاربن فُٹ پرنٹ سے مراد کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وہ مجموعی مقدار ہے جو کسی بھی عمل میں اکائی پیمانے پر خارج ہوتی ہے۔ یعنی اگر کسی عمل میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوگی تو اس کےلیے کاربن فُٹ پرنٹ بھی بڑا تصور کیا جائے گا۔

اوپن ایکسیس ریسرچ جرنل ’’انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نیلی ہائیڈروجن بنانے کا کاربن فُٹ پرنٹ، قدرتی گیس یا کوئلے کو براہِ راست جلانے کے مقابلے میں بھی 20 فیصد بڑا ہوتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ حصولِ حرارت کےلیے ڈیزل جلانے کے مقابلے میں بھی نیلی ہائیڈروجن کا کاربن فُٹ پرنٹ 60 فیصد بڑا دیکھا گیا۔

یہ دریافت اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کےلیے ایسی ٹیکنالوجیز پر بہت زیادہ کام کیا جارہا ہے کہ جو ’’کاربن نیوٹرل‘‘ ہو؛ یعنی اس سے جتنی بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو، اتنی ہی واپس جذب بھی کرلی جائے۔

نیلی ہائیڈروجن کو بھی تقریباً کاربن نیوٹرل ہی قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم اس نئی تحقیق نے بات بالکل اُلٹ دی ہے۔

امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، بلیو ہائیڈروجن کی تیاری میں پہلا مرحلہ گرمی، بھاپ اور دباؤ کی مدد سے میتھین کو ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے آمیزے میں بدلنے کا ہوتا ہے۔ تب اسے ’’سرمئی ہائیڈروجن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اگلے مراحل میں اس آمیزے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری کثافتیں (impurities) الگ کرکے ’’نیلی ہائیڈروجن‘‘ حاصل کرلی جاتی ہے۔

ہووارتھ اور جیکبسن نے اپنے مقالے میں بتایا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور دوسرے ضروری امور انجام دینے کےلیے بھی ایندھن استعمال کیا جاتا ہے جو بجائے خود کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کا سبب بنتا ہے۔

ان دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’نیلی ہائیڈروجن‘‘ پر کام آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں اس کے تمام پہلوؤں کو بغور دیکھنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ماحول کو بچاتے بچاتے اسے نقصان پہنچا دیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔