افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ افغان دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

ویب ڈیسک  جمعـء 8 ستمبر 2023
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر حالیہ واقعہ سے متعلق عبوری افغان حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں  انہوں نے بتایا کہ نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی 12 سے 15 ستمبر کو لندن میں کامن ویلتھ یوتھ وزارتی کانفرنس کی صدارت کریں گے اور کامن ویلتھ کانفرنس میں شریک مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے جی 20 ممالک کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے جی 20 ممالک کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے ۔ خطے میں بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں کشمیر میں آزادی اظہار رائے پر پابندیوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی ادارے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر حالیہ واقعے سے متعلق عبوری افغان حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگا اسلحہ امریکا کا نہیں؛ ترجمان جان کربی

ممتاز زہرہ بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں کا معاملہ افغان حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔ افغانستان میں چھوڑا جانے والا اسلحہ افغان دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ہم کسی کو بھی مؤرد الزام نہیں ٹھیراتے۔  افغانستان میں چھوڑا جانے والا اسلحہ عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ پاکستان اور روس کے اہم تعلقات ہیں۔ پاکستان اور روس کے مابین وفود کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اور روس کے مابین توانائی کے حوالے سے تعاون جاری ہے۔ نگران وزیر خارجہ کے دورہ برطانیہ کے حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت اپنے اندرونی سیاسی معاملات کے زیر اثر ہے۔ بھارتی قیادت بھارتی عوام کو درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کرے۔ بھارتی قیادت پاکستان پر غیر ضروری بیانات کا سلسلہ ختم کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔