غزہ میں کارروائی کسی وقفے یا جنگ بندی کے بغیر جاری ہے اور رہے گی، اسرائیل

ویب ڈیسک  جمعـء 10 نومبر 2023
وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں یومیہ 4 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی پر راضی ہوگیا  ، فوٹو: اے ایف پی

وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں یومیہ 4 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی پر راضی ہوگیا ، فوٹو: اے ایف پی

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس کے غزہ میں جنگ  بندی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں اس وقت بھی کسی جنگ بندی یا وقفے کے بغیر لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے اور شرائط کی منظوری تک جاری رہے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے عارضی جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے امریکا کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا مطلب حماس کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہو گا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ جب تک حماس تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کردیتا، جنگ بندی نہیں ہوگی اور اپنے اس مؤقف سے ہم کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

نیتن یاہو نے اسرائیل کے غزہ پر حکمرانی یا سیکیورٹی کے نام پر طویل مدت تک اپنی فوجیں تعینات کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے۔ یر غمالیوں کی رہائی یا حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ البتہ غزہ میں جنگ کے دوران عام شہریوں کے انخلاء کے لیے راہداری کے قیام پر غور کرسکتے ہیں۔

جنگ کی مدت کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے جنگ کے لیے بغیر ٹائم ٹیبل کے اہداف مقرر کیے ہیں کیوں کہ ان اہداف کے حصول میں اندازے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قطر اور امریکا کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل غزہ میں یومیہ 4 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کے لیے راضی ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ان چار گھنٹوں میں شہریوں بالخصوص غیر ملکیوں کو جنگ زدہ علاقوں سے محفوظ مقام پر منتقلی میں مدد ملے گی جس کا روڈ میپ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ان چار گھنٹوں کی جنگ بندی کے وقت کا اعلان اُس دن جنگ بندی شروع ہونے سے تین گھنٹے قبل کیا جائے گا۔

اس حوالے سے امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ حماس اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر راضی ہوگئی تو اسرائیل بھی جنگ بندی کے دورانیے کو بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ امریکا غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل کو مجبور نہیں کرسکتا تاہم ہماری کوششوں سے اسرائیل غزہ میں جنگ کی حکمت عملی کے تبدیل کرنے پر راضی ہوگیا۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر ہونے والی اسرائیلی بمباری میں 10 ہزار 800 سے زائد فلسطینی شہید اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ شہدا اور زخمیوں میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہیں جب کہ حماس کے حملے میں 1400 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔