پانی کی قلت کے اعتبار سے جنوبی ایشیا دنیا میں بدترین خطہ ہے، اقوام متحدہ

ویب ڈیسک  پير 13 نومبر 2023
—فائل فوٹو

—فائل فوٹو

  واشنگٹن: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات (کلائمیٹ چینج) کی وجہ سے  جنوبی ایشیا میں بچے پانی کی قلت کے باعث سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2022 تک 73 کروڑ 90 بچوں کو پانی کی زیادہ یا انتہائی زیادہ کمی کا سامنا ہے، ان میں زیادہ تر یعنی 43 کروڑ 60 لاکھ بچے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے ہیں۔

یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں قابلِ علاج بیماریوں سے ہونے والی اموات کا ایک اہم سبب ہے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی ایشیا 8 ممالک پر مشتمل خطہ ہے جہاں مجموعی طور پر دنیا کے ایک چوتھائی سے زیادہ بچے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پانی کی کمی کا ایک اہم محرک ہے، جس سے 2050 تک مزید 3 کروڑ50 لاکھ بچے پانی کے دباؤ کا شکار ہو جائیں گے اور ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہو گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حالات میں، بچوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے پینے کے صاف پانی اور صفائی کی خدمات میں سرمایہ کاری دفاع کی ایک فرنٹ لائن ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔