غزہ میں بمباری سے زیادہ بیماریوں سے اموات کا خطرہ لاحق ہے؛ عالمی ادارۂ صحت

ویب ڈیسک  بدھ 29 نومبر 2023
اسرائیلی بمباری سے غزہ کے تمام بڑے اسپتال تباہ اور صحت کا نظام بیٹھ گیا، ترجمان ڈبلیو ایچ او (فوٹو: فائل)

اسرائیلی بمباری سے غزہ کے تمام بڑے اسپتال تباہ اور صحت کا نظام بیٹھ گیا، ترجمان ڈبلیو ایچ او (فوٹو: فائل)

جنیوا: عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جنگ سے زیادہ بیماریوں سے اموات کا خطرہ لاحق ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے کہا کہ غزہ میں بمباری کی وجہ سے کئی بڑے اسپتال تباہ ہوگئے اور صحت کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر غزہ میں صحت کے نظام کو فعال نہ کیا گیا تو جتنی اموات بمباری سے ہوئی ہیں اس سے زیادہ اموات بیماریوں سے ہوں گی کیوں کہ بیماریوں سے لڑنے کے لیے سسٹم تباہ ہوگیا ہے۔

یہ خبر پڑھیں : الشفا اسپتال سے ملنے والی لاشوں کی اجتماعی قبر میں تدفین کردی گئی؛ ویڈیو وائرل 

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے غزہ میں الشفاء اسپتال کے اسرائیلی بمباری میں تباہ ہونے کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے طبی عملے کی بھی حراست میں لے لیا جس پر تشویش ہے۔

یاد رہے کہ غزہ کے شمالی علاقوں میں الشفا سمیت 4 بڑے اسپتالوں کو اسرائیل نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے بمباری میں تباہ کردیا کہ ان اسپتالوں کے نیچے حماس نے سرنگیں بناکر رکھی ہیں جس میں اسلحہ اور یرغمالیوں کو چھپایا گیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : اسرائیل نے غزہ میں الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کو گرفتار کرلیا

بعد ازاں اسرائیل کی برّی فوج نے بھی الشفا اسپتال پر دھاوا بولا اور وہاں سے سرنگ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس کے شواہد پیش نہ کرسکے تھے بلکہ الٹا الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر اور طبی عملے کو گرفتار کرلیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی اس ظالمانہ کارروائی کے بعد الشفا اسپتال سے ملنے والی 110 لاشوں کو ناقابل شناخت ہونے کی بنا کر اجتماعی قبر میں دفن کردیا گیا تھا۔ ان میں بچے اور خواتین کی لاشیں بھی شامل ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔