اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کو چلینج کرنے کا اعلان

ویب ڈیسک  ہفتہ 2 دسمبر 2023
(فوٹو فائل)

(فوٹو فائل)

 اسلام آباد: 

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد پریس کانفرنس میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں جمہوریت کے نام پر جو کچھ ہوا وہ فراڈ ہے کیونکہ تحریک انصاف کے آئین میں نگراں سربراہ کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں جسٹس وجیہ الدین کی سفارشات مان لیتے تو پی ٹی آئی ادارہ بن جاتی، ان کی سفارشات ماننے کی بجائے انہیں پی ٹی آئی سے ہی فارغ کردیا گیا، پی ٹی آئی نے کورونا  کے دوران الیکشن کمیشن سے ایک سال کا التوا مانگا، پی ٹی آئی میں نامور وکلاء ہیں جو آئین قانون کی بات کرتے ہیں، لیکن آج وہ اس فراڈ کا حصہ بنے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پہلے بھی ہائی جیک ہو چکی ہے، جب میں کہتا تھا فارن فنڈنگ ہوئی تو کہتے تھے یہ ایزی لوڈ ہے، اب مجھے ایزی لوڈ کہنے والے ڈاونلوڈ ہو چکے، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ ایسے الیکشن سے تو بلے کا نشان پہلے سے زیادہ خطرے میں ہے، یہ کیسے الیکشن ہیں جس میں بانی اراکین حصہ نہ لے سکیں؟ کل مجبورا وفد کے ہمراہ پی ٹی آئی کے دفتر گئے، پی ٹی آئی زمہ داران سے ووٹر فہرستیں مانگی گئیں، پی ٹی آئی پر قیادت مسلط کی گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ انڈر گراؤنڈ لوگوں کے کاغذات نامزدگی جمع ہو گئے اور گراونڈ پر موجود لوگ نظر انداز ہوئے، آپ نے ورکرز اور میرٹ کو اہمیت نہیں دی۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور عدلیہ سے کہتا ہوں ہر جماعت کی فنڈنگ کی اسکروٹنی کرے اور اس معاملے میں انتظار نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ورکرز کو پارٹی چیئرمین چننے کا اختیار ہونا چاہیے تھا مگر آج ایک ڈرامہ کر کے نئے چیئرمین کا انتخاب کیا گیا،الیکشن کمیشن اور عدلیہ سے کہتے ہیں کہ سیاست جماعتوں میں جمہوریت لانے کے لیے کردار ادا کریں۔

اکبر ایس بابر نے انٹرا پارٹی الیکشن کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت عدالت جانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ تحریک انصاف نے موجودہ حالات خود اپنے اوپر لاگو کیے، میں بار بار تعمیری سیاست کی تجویز دیتا رہا ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔