انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹ گیا؛ لاوے سے جلی ہوئی 22 لاشیں برآمد

ویب ڈیسک  منگل 5 دسمبر 2023
آتش فشاں پھٹنے کا منظر دیکھنے کے لیے وہاں 75 کوہ پیما موجود تھے جو لاوے کی زد میں آگئے، فوٹو: رائٹرز

آتش فشاں پھٹنے کا منظر دیکھنے کے لیے وہاں 75 کوہ پیما موجود تھے جو لاوے کی زد میں آگئے، فوٹو: رائٹرز

جکارتا: 2 روز قبل انڈونیشیا کے پہاڑ ماراپی کا آتش فشاں پھٹنے سے نکلنے والے لاوے نے ہر شے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور 12 لاپتا ہوگئے تھے تاہم آج مزید 11 لاشیں ملی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے مغربی صوبے سماٹرا میں واقع 2,891 میٹر (9,485 فٹ) لمبا آتش فشاں پھٹ گیا جس سے لاوا 3 کلومیٹر تک پھیل گیا۔ یہ منظر دیکھنے کے لیے 75 کوہ پیما پہاڑ پر موجود تھے۔

لاوے کے ٹھنڈے ہونے کے بعد کیے جانے والے امدادی کاموں کے دوران 3 کوہ پیماؤں کو بری طرح جھلسی ہوئی حالت میں بچالیا گیا جب کہ 49 کوہ پیما معمولی زخمی تھے۔

علاوہ ازیں 11 کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔  ہلاک ہونے والے کوہ پیماؤں کی شناخت کا عمل جاری ہے جب کہ مزید 12 کوہ پیما تاحال لاپتا ہیں جن میں سے 11 کی آج جلی ہوئی لاشیں مل گئیں۔

اس طرح آتش فشاں کے لاوے کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

خیال رہے کہ کل ریسکیو ٹیم کے ترجمان نے بتایا تھا کہ فی الحال حفاظتی خدشات کے باعث لاپتا کوپیماؤں کی تلاش کا کام عارضی طور پر روکنا پڑا ہے۔ ان حالات میں امدادی رضاکار آگے گئے تو ان کی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں۔

آتش فشاں سے 3 کلومیٹر تک کے علاقے میں لاوے کی راکھ پھیلی ہوئی ہے اور دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ کئی کاریں لاوے میں دب گئیں اور سڑکوں پر گڑھے پڑ گئے۔ شہری عملاً اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

یاد رہے کہ پہاڑ ماؤنٹ ماراپی پر واقع یہ آتش فشاں وقتاً فوقتاً پھٹنے سے لاوا باہر آتا رہتا ہے۔ رواں برس بھی  جنوری اور فروری کے درمیان اس آتش فشاں نے تقریباً 75 میٹر سے ہزار میٹر تک راکھ اُگلی تھی۔

اس فعال ترین آتش فشاں کے پھٹنے کا سب سے ہلاکت خیز واقعہ اپریل 1979 میں پیش آیا تھا جس میں 60 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آتش فشاں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈونیشیا بحر الکاہل کے “رنگ آف فائر” پر واقع ہے جس میں 127 فعال آتش فشاں ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔