ایک زندگی بھی کافی ہے

جاوید چوہدری  منگل 5 دسمبر 2023
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

28 نومبر کی شام بھی اس نے کام کیا‘ اس نے غزہ پر سفارتی پیس لکھا اور اپنے اسسٹنٹ کو بھجوا دیا‘ اس نے پیس میں دعویٰ کیا‘ اسرائیل اور عرب ملک 75 سال کی کوششوں کے بعد ایک دوسرے کے قریب آ رہے تھے‘ نفرت کی دیواریں گر رہی تھیں۔

2025تک سعودی عرب بھی اسرائیل کے لیے کھل جانا تھا‘ حماس کو یہ دوستیاں پسند نہیں آئیں چناں چہ اس نے اسرائیل پر راکٹ داغ دیے‘ اس حملے کا واحد مقصد عرب اسرائیل امن کو سبوتاژ کرنا تھا اور اسرائیل نے غزہ پر حملہ کر کے حماس کا یہ مقصد پورا کر دیا اور اسلامی دنیا ایک بار پھر اسرائیل کے خلاف اکٹھی ہو گئی۔

اسرائیل اگر ردعمل سے پہلے ذرا سا سوچ لیتا‘یہ غزہ پر حملہ نہ کرتا اور اپنے عرب دوستوں کو استعمال کرتا تو حماس پوری دنیا میں اکیلا ہو جاتا مگر اسرائیل کے غیر دانش مندانہ اور اچانک ردعمل نے حماس کی سازش کو کام یاب بنا دیا اور دنیا اب تیسری خوف ناک جنگ کی طرف دوڑ رہی ہے‘ہم نے اگر اسرائیل فلسطین جنگ نہ روکی تو یہ پوری دنیا کو نگل جائے گی۔

اس نے اس پیس کے بعد اسرائیلی سفارت کاری کی کتاب کا مسودہ پڑھا‘ یہ کتاب اس کے ایک دوست پروفیسر نے لکھی تھی اور اپروول کے لیے اسے مسودہ بھجوا دیا تھا‘ اس نے کتاب کے تین صفحے انڈر لائن کیے۔

اس کے بعد انڈونیشیا میں اپنے ایک مسلمان دوست کے لیے پیغام ریکارڈ کرایا اور آخر میں ڈاکٹر کی ایڈوائس کے خلاف چین کی گرین ٹی کا ایک کپ لیا‘ یہ چائے اسے دو ماہ قبل چینی صدر نے دورے کے دوران گفٹ کی تھی‘ ڈاکٹر نے اسے شام کے بعد کسی قسم کا مشروب پینے سے منع کر رکھا تھا‘ اسے پیشاب کی تکلیف تھی اور اس کے لیے رات کے وقت اٹھنا مشکل تھا۔

لہٰذا ڈاکٹروں نے اس کے پانی کی مقدار کم کر دی تھی‘ وہ سارا دن صرف چار گلاس مایع لے سکتا تھا اور یہ بھی مغرب سے پہلے تک‘ وہ ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق زندگی گزار رہا تھا‘ ڈسپلن اس کی کام یابی کا سب سے بڑا اور مضبوط ستون تھا۔

اس نے ہمیشہ نظم وضبط کے ساتھ زندگی گزاری‘ وہ بیس سال سے ڈاکٹروں کی ایڈوائس میں بھی تھا لیکن 28 نومبر کی رات اس نے چیٹنگ کا فیصلہ کیا‘ وہ اٹھا ‘ کارنس ٹیبل پر پڑے چائے کے سامان سے گرین ٹی نکالی‘ کپ میں ڈالی پھر گرم پانی ڈالا اور دیر تک اسے انجوائے کرتا رہا‘ اس کے کمرے کی کھڑکی کے باہر شاہ بلوط کے درخت جھوم رہے تھے‘ ہلکی لائیٹس میں لان اور اس کے پودے اور درخت بہت خوب صورت لگ رہے تھے۔

وہ تھوڑی دیر کھڑکی کے قریب رکا اور اپنی بیوی نینسی سے پوچھا‘ کیا اس کرسمس پر ہمارے تمام گرینڈ چلڈرن آئیں گے؟ نینسی نے ہنس کر جواب دیا ’’سو فیصد‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور پھر کہا ’’ہو سکتا ہے یہ میری آخری کرسمس ہو‘‘ نینسی نے مسکرا کر شٹ اپ کہا اور پھر بولی ’’یہ تم 25سال سے کہہ رہے ہو اور مجھے یقین ہے میں فوت ہو جاؤں گی مگر تم اسی طرح کرسمس مناتے رہو گے‘‘ یہ اس کا اپنی بیوی کے ساتھ آخری مکالمہ تھا۔

اس نے اسے گڈ نائٹ کہااور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی‘ اگلے دن 29 نومبر 2023 تھا‘بٹلر چائے کی ٹرالی لے کر اس کے کمرے میں گیا‘ دستک دی مگر اندر سے ’’کم اِن‘‘ کی آواز نہیں آئی‘ اس نے اوپر نیچے دو تین مرتبہ دستک دی لیکن جب کوئی جواب نہ آیا تو وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔

بیڈ پر صرف ہنری کسنجر کا ٹھنڈا جسم پڑا تھا‘ روح رات کے کسی خاموش پل میں اس کا ساتھ چھوڑ کر رخصت ہو گئی تھی‘ یہ خبر چند لمحوں میں کینٹ کے پورے ٹاؤن میں پھیل گئی اور پھر چند گھنٹے بعد ہنری کسنجر کے دفتر نے اس کی موت کی تصدیق کر دی اور یوں ہنری کسنجر 100 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔

دنیا میں ہزاروں سفارت کار ہیں‘ ان میں سے 100 کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے مگر ہنری کسنجر صرف ایک تھا‘ دنیا کا کوئی سفارت کار اس کے مرتبے کو نہیں چھو سکا‘ دنیا میں پچھلے 60 برسوں میں جتنے بھی اہم سفارتی مرحلے آئے‘ ہنری کسنجر ان کا لازمی جزو ہوتا تھا‘ چین کے دروازے امریکا کے لیے کھلنے ہوں۔

ویت نام جنگ کا خاتمہ ہو‘ بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ ہو‘ سوویت یونین کے ساتھ کولڈ وار ہو‘ عرب اسرائیل جنگ ہو‘ ایران عرب‘ ایران عراق اور ایران امریکا جنگ ہو‘ سائپرس پر ترکی کی یلغار ہو‘ لاطینی امریکا کی لڑائیاں ہوں‘ چلی میں امریکی مداخلت ہو‘ ارجنٹائن میں امریکی مفادات کی جنگ ہو‘ روڈشیا کا مسئلہ ہو۔

پرتگال کی نوآبادیات کی جنگ ہو‘ ایسٹ تیمور کا تنازع ہو‘ کیوبا کا مسئلہ ہو‘ ویسٹ صحارا کا معاملہ ہو‘ زائر کی خانہ جنگی ہو یا پھر پاکستان کا ایٹمی پلانٹ ہو سفارتی دنیا میں صرف ایک ہی شخص نظر آتا تھا اور وہ تھا ہنری کسنجر‘ یہ شخص سفارت کار کے ساتھ ساتھ دانش ور بھی تھا‘ آپ اس کی دانش کا اندازہ صرف اس مثال سے لگا لیجیے۔

میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور میں ہنری کسنجر سے پوچھا تھا‘ پاکستان کو امریکا کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھنے چاہییں‘ ہنری کسنجر نے ہنس کر جواب دیا‘ آپ اگر امریکا کے دشمن ہیں تو آپ کے بچنے کے چانسز ہیں لیکن آپ اگر اس کے دوست بن گئے تو پھر آپ کی موت قطعی ہے‘‘ آپ اس فقرے سے اس کے وزڈم کا اندازہ لگا لیجیے‘ شام میں خانہ جنگی کے بعد جرمنی نے شامی مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیں۔

اس پر ہنری کسنجر نے کہا ’’جرمنی نے بہت بڑی غلطی کی‘ اس نے اپنے ملک میں ایسی کمیونٹی پیدا کر لی جو نظریاتی اور ثقافتی لحاظ سے بالکل مختلف ہے‘ یہ لوگ مستقبل میں جرمنی کے لیے ایک بہت بڑا پریشر گروپ ثابت ہوں گے‘‘ اسرائیل پر حماس کے حملے پر اس نے دو فقروں میں تبصرہ کیا ’’اسرائیل اور عرب ملک حماس کے ٹریپ میں آ گئے ہیں اور اب انھیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی‘‘ ہنری کسنجر نے 1971 میں جنرل یحییٰ خان کی مدد سے امریکا اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات استوار کیے۔

جنرل یحییٰ خان نے چینی قیادت ماؤزے تنگ اور چو این لائی کو راضی کیا اور پھر امریکی صدر رچرڈ نکسن کو تیار کیا‘ یحییٰ خان دونوں کو اپنے ہاتھ سے خط لکھتے تھے‘ خط اس لیے ٹائپ نہیں کرائے جاتے تھے کہ یہ راز کہیں اخبارات تک نہ پہنچ جائے یہاں تک کہ جولائی 1971 میں ہنری کسنجر پاکستان آئے۔

جنرل یحییٰ خان کے اسٹاف نے ہنری کسنجر جیسے ایک گورے کو میک اپ کرا کر گاڑی میں بٹھایا‘ اس کے آگے اور پیچھے پروٹوکول اور سیکیورٹی کی گاڑیاں لگائیں اور اسے ایبٹ آباد روانہ کر دیا جب کہ اصل ہنری کسنجر کو طیارے میں بٹھا کر چین بھجوا دیا گیا اور یوں چین اور امریکا کے درمیان نفرت کی دیوار گر گئی‘ کسنجر پوری زندگی اس تاریخی سپورٹ پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے رہے مگر ہم پاکستانی آج تک اس فیور کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

ہنری کسنجر 1923 میں جرمنی کے شہر بیوریا (Bavaria) میں پیدا ہوئے‘ والداسکول ٹیچر تھے‘ یہ یہودی تھے‘ ہٹلر کی آمد کے ساتھ ہی ان پر ظلم وستم شروع ہو گیا‘ ہنری کسنجر کو فٹ بال کھیلنے کا جنون تھا‘ یہ جب بھی میدان میں جاتے تھے انھیں نازی بچے تشدد اور بے عزتی کا نشانہ بناتے تھے۔

سختیاں زیادہ بڑھ گئیں تو خاندان فرار ہو کر لندن آ گیا اور وہاں سے 1943 میں امریکا آ گیا‘ امریکا میں ہنری کسنجر شیونگ برش بنانے والی فیکٹری میں کام کرتے تھے اور شام کے وقت تعلیم حاصل کرتے تھے‘ بچپن کے واقعات کی وجہ سے ان میں احساس کمتری تھا‘ یہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر بات نہیں کر سکتے تھے لیکن یہ بعدازاں پوری دنیا سے مخاطب ہوتے رہے۔

دوسری جنگ عظیم میں فوج میں بھرتی ہو گئے‘ لڑائی بھی کی اور جاسوسی بھی‘ 1945 میں ہارورڈ یونیورسٹی میں داخل ہوئے‘ سیاسیات میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی‘ پڑھانا شروع کیا‘ عملی سیاست میں آئے اور پھر رچرڈ نکسن کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور وزیر خارجہ بن گئے‘ دو صدور کے ساتھ کام کیا اور کمال کر دیا‘ وائٹ ہاؤس سے نکلنے کے بعد کسنجر ایسوسی ایٹس کے نام سے سفارتی لابنگ فرم بنائی اور پوری دنیا کی سفارت کاری کرنے لگے۔

ملک انھیں ہائر کرتے تھے‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل تھے‘ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر بھی رہے‘ کتابیں بھی لکھیں اور پوری دنیا میں لیکچر بھی دیے اور انٹرویوز بھی‘ بڑی بڑی کمپنیاں انھیں دس دس ملین ڈالر معاوضہ دے کر ہائر کرتی تھیں‘ یہ شہزادوں اور وزراء اعظم کی سفارتی ٹریننگ کرتے تھے۔

اس سال مئی میں یہ سو سال کے ہو گئے لیکن یہ اس کے باوجود روزانہ 18 گھنٹے کام کرتے رہے‘ لیکچر دیتے تھے‘ کتابیں اور مضامین لکھتے تھے‘ گھر میں اسٹوڈیو بنایا ہوا تھا‘ وہاں انٹرویوز دیتے تھے‘ پوری دنیا میں سفر کرتے تھے‘ پانچ براعظموں میں ان کے دوست اور کلائنٹس تھے‘ یہ ان کی کمپنی کو انجوائے کرتے تھے۔

امن کا نوبل پرائز بھی مل چکا تھا‘ نائین الیون کمیشن کے سربراہ بھی رہے اور اس اکیلے شخص نے کئی بار امریکا کا پورا سفارتی کلچر تبدیل کیا‘ نیویارک کی سرحد پر کینٹ نام کے چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے‘ پورے قصبے میں 3000 لوگ آباد ہیں‘ یہ سب ایک دوسرے کو شکل اور ناموں سے جانتے تھے۔

یہ قصبہ ہنری کسنجر کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھا‘ یہ عظیم سفارتی دماغ 29 نومبر 2023 کو سو سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن مرنے سے ایک رات پہلے تک اس نے کام کیا اور پورے اٹھارہ گھنٹے کیا‘ وہ کہا کرتے تھے ہم دنیا میں آرام نہیں کام کرنے کے لیے آئے ہیں۔

آرام کے لیے قبر سے بہتر کوئی جگہ نہیں اور یہ اب ایک بھرپور زندگی کے بعد قبر میں آرام کر رہے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں انسان اگر طریقے سے گزارے تو ایک زندگی بھی کافی ہوتی ہے‘ انسان ایک زندگی میں سو زندگیوں کے برابر کام کر سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔