بچوں کی گمشدگی، اغوا اور بازیابی کی کہانی

مزمل سہروردی  منگل 5 دسمبر 2023
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

پنجاب میں بچوں کی گمشدگی، ان کا اغوا اور بچوں کے ساتھ دیگر جرائم اپنی جگہ موجود ہیں، ہمیں پنجاب کی سڑکوں پر بچے بھیک مانگتے بھی نظر آتے ہیں۔ بچوں کو سیکس انڈسٹری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گھروں میں ان کو بطور ملازم رکھنے کے لیے بھی خرید و فروخت کی ایک مارکیٹ موجود ہے۔ بچوں سے جبری مشقت اور ان پر تشدد کے واقعات بھی معاشرے میں اپنی جگہ موجود ہیں۔ بچوں کے حوالے سے جرائم ، دیگر جرائم سے مختلف ہیں۔ بچے کا گم جانا اور ان کے اغوا ہونا، ان سب جرائم کا آغاز ہے۔

ویسے تو بچوں کے حوالے سے یہ جرائم پورے ملک میں ہورہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف پنجاب میں بچوں کی گمشدگی او ران کے اغوا کے واقعات اور جرائم موجود ہیں۔ بچوں کے ساتھ سفاکانہ جرائم پورے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر ہورہے ہیں، قصور میں زینب قتل کیس نے میڈیا پر توجہ حاصل کی، زینب کیس اس وقت پنجاب پولیس کے لیے چیلنج اور ٹیسٹ کیس بن گیا۔ پنجاب پولیس نے خصوصی طور زاہد نواز مروت کو ڈی پی او قصور تعینات کیا۔

ان کو بلائنڈ کیسز کی تفتیش کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے زینب کیس کے ملزم کو ٹریس کرنے تمام سرگرمیوں کی نگرانی کی، بلاآخر پولیس ملزم تک پہنچ گئی اور اسے گرفتار کیا گیا۔حالانکہ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ اس کیس کو حل کرنا بہت مشکل ہے۔

لیکن زاہد نواز مروت نے کمال مہارت سے اس کیس کو نہ صرف حل کیا۔ بلکہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کیس چلان میں کوئی سقم، جھول یا کمی نہ رہنے دی، اسی وجہ سے ملزم کو پھانسی کے پھندے میں جھولنا پڑا۔

زینب کیس کے بعد سے زاہد مروت نے بچوں کی گمشدگی اور بچوں کے ساتھ دیگر جرائم پر خصوصی توجہ دی ہے۔ آجکل وہ شیخوپورہ پولیس کے سربراہ ہیں۔

بچوں کے حوالے سے شیخوہ پورہ پولیس کی کارکرد گی کا جائزہ لیا جائے تو 2023میں ایک سو اکیس شکایات کا اندراج ہوا ، اور سب کا ازالہ ہوا۔ ایک سو بارہ بچوں کو بازیاب کرا یا گیا جب کہ تیرہ بچے ایسے ہیں جنھیں برآمد کرلیا گیا لیکن ان کے والدین نہیں مل سکے۔

اب یہ بچوں چائلڈ پروٹیکشن سینٹرز کے سپرد کردیے گئے۔ شیخوپورہ سے گم ہونے یا اغوا ہونے والے تمام بچے بازیاب ہوئے، جو ا اچھی کارکردگی ہے۔

پولیس کے مطابق بچوں کی گمشدگی اور اغوا کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ان میں جائیداد کا تنازعہ ، گھریلو ملازمین کا مالکان کے بچوں کے اغوا اور گمشدگی میں ملوث ہونا۔ والدین کی سختی اور بے جا ڈانٹ ڈپٹ۔ گھریلو ناچاقی۔ رشتے داروں کا حسد، اساتذہ کا تشدد وغیرہ شامل ۔ بچوں کو اغوا کرنے والے گینگ شامل ہیں۔

اس طرح ان وجوہات کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے تدارک کے لیے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ بہر حال آر پی او شیخوپورہ بابر سرفراز الپا اور ڈی پی او زاہد نواز مروت کو پنجاب حکومت کی طرف سے شاباش ضرور دی جانی چاہیے۔

میں بازیاب ہونے والے بچوں کے والدین سے بھی ملا ہوں، ان کی خوشی قابل دید ہے۔ لیکن میری رائے میں ان والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہیں۔ ہمارے ہاں بچوں کی تربیت ونگہداشت کے حوالے سے والدین کی کوئی ٹریننگ نہیں ہے۔ ہم والدین کو بچوں کو کیسے ہینڈل کرنا ہے نہیں سکھاتے ہیں، سیدھی سی بات ہے جو والدین ہی غیرتربیت یافتہ ہوں گے تو بچوں کی تربیت کون کرے گا۔

اکثر بچے والدین یا بڑے بہن بھائیوں سے ناراض ہوکر گھر سے بھاگ جاتے ہیں، کئی بچے اسکول اور مدرسے کے اساتذہ کی سختی سے سے گھبرا کر فرار ہوجاتے ہیں ، ناراضگی کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ایسے بچے جو ناراض ہو کر گھر سے چلے جاتے ہیں ، وہ مختلف جرائم پیشہ گینگز کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں۔ وہ گینگ ان بچوں کو جرائم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کئی گینگز ایسے بچوں کو بھکاری بناتے ہیں ، ان سے جبری مشقت لی جاتی ہیں۔

لڑکیوں کو بھی جرائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے بچوں کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدمات کرنے ہوںگے۔ یہ درست ہے کہ سو فیصد بچوں کی بازیابی اپنی جگہ ایک خصوصی کاکردگی ہے۔ لیکن پورے پنجاب میں ایسی کارکردگی کی ضرورت ہے۔

پولیس کو پورے پنجاب میں خصوصی کریک ڈاؤن کرنا چاہیے، ایسے کریمنل گینگ کا خاتمہ کرنا انتہائی ضروری ہوچکا ہے۔سڑکوں پر مانگنے و الے بچوں کے لیے چائلڈ پروٹیکشن بیورو بھی کام کر رہا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ان کی کارکردگی ویسی نہیں ہے، جیسی ہونی چاہیے۔

پوری دنیا میں بچوں کے جرائم پر انتہائی سنجیدگی سے توجہ دی جاتی ہے۔ حکومتیں بچوں کو قوم کا مستقبل سمجھتی ہیں، بچوں کے ساتھ جرائم کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب آپ نے ایک بچے کو بازیاب کروایا ہے تو آپ سمجھیں آپ نے ایک نسل کو بچایاہے۔ ایک مستقبل کو بچایا ہے۔ یہ بچے قوم کا مستقبل ہیں۔ یہ پاکستان کا مستقبل ہیں۔

ہمارے ملک میں ابھی اس حوالے سے وہ سنجیدگی نہیں ہے۔ اسکولوں میں مار پیٹ کا وہی پرانا نظام ہے۔ والدین بھی مار پیٹ سے ہی بچوں کو ٹھیک کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ پھر انٹر نیٹ نے بھی بچوں میں ذہن آلودگی کا شکار کیا ہے۔ ہمارے ہاںجب کوئی بچہ گم جاتا ہے تو ساری ذمے د اری پولیس پر آجاتی ہے۔

پولیس سے ہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ بچے کو فوری برآمد کرائے۔ لیکن ہم بچوں کی گمشدگی کے عوامل کو ختم کرنے پر کوئی کام نہیں کرتے۔ کسی بھی حکومت کا اس حوالے سے کوئی فوکس نظر نہیں آتا۔ یہ کالم لکھنے کا مقصد محض شیخوپورہ پولیس کی تحسین کرنا نہیں بلکہ آپ کی بچوں کے حقوق و فرائض پر توجہ دلانا ہے۔ باقی سیاست پر تو بات ہوتی رہتی ہے۔ بلکہ صرف سیاست پر ہی بات ہوتی رہتی ہے، ایسے کالموں کی بہت کم گنجائش ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔