الیکشن: ن لیگی رہنما رشتہ داروں کو ٹکٹیں دلوانے کیلئے سرگرم، متعدد رہنما ناراض

ویب ڈیسک  منگل 5 دسمبر 2023
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

 لاہور: الیکشن 2024ء کے لیے ن لیگی رہنما قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹیں دلوانے کے لیے سرگرم ہوگئے، ٹکٹوں کی بندر بانٹ کے معاملے پر کئی لیگی رہنما ناراض ہوگئے، مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت نے معاملے کا نوٹس لے لیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن میں کئی خاندانوں کی جانب سے اپنی نئی نسل کو جانشین بنانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، ٹکٹوں کی تقسیم پر بڑھتے ہوئے تنازعات کے سبب مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت نے معاملے کا نوٹس لے لیا، لیگی رہنماؤں کے خاندان میں ٹکٹوں کے تنازعات کے حل کے لئے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق احسن اقبال، حنیف عباسی، چوہدری تنویر، رانا ثناء اللہ، سیف الملوک کھوکھر سمیت متعدد ن لیگی رہنما اپنے بیٹوں اور بیٹیوں، داماد یا قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹیں دلوانے کے لئے سرگرم ہیں، کئی علاقوں میں ٹکٹیں لینے کے خواہش مند فریقین ناراض، کئی لیگی رہنما بیٹوں، بیٹیوں یا دیگر قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹیں ملنے کی حتمی یقین دہانی نہ ملنے پر ناراض ہیں۔

بعض رہنماؤں کا موقف ہے کہ ہم دہائیوں سے اپنے علاقے میں سیاست کر رہے ہیں پارٹی ٹکٹ ہمارا حق ہے، ہم یہ نشستیں پہلے بھی جیتتے رہے ہیں اور آئندہ ہماری نسل بھی جیت کر دکھا سکتی ہے۔

پارٹی میں یہ صورتحال ہے کہ جنہیں ٹکٹیں ملنے کا امکان نہیں وہ دوسروں کو ٹکٹیں ملنے پر ناراض ہیں، خاندانی حلقوں کے دیگر رہنماوں نے بھی ٹکٹیں نہ ملنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ناراض پارٹی رہنماؤں کا موقف ہے کہ ہم 35 برس سے پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، اس پارٹی کو خاندانی سیاست کا شکار نہیں ہونے دیں گے، جن کو اپنے بچے سیاسی میدان میں اتارنے ہیں وہ اپنے ذاتی حلقوں میں شوق پورا کریں اور خود گھر بیٹھیں، ہم اپنے حلقوں میں ان کے بچوں کو الیکشن نہیں لڑنے دیں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق مخصوص نشستوں پر بھی کارکن خواتین کی بجائے چند ایک خاندانوں سے نامزدگیوں پر بھی اظہار ناراضی کیا ہے۔

گذشتہ روز رانا ثناء اللہ نے تصدیق کی تھی کہ دانیال عزیز اور احسن اقبال کی لڑائی ایک صوبائی حلقے کی ٹکٹ کی وجہ سے ہے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق احسن اقبال اپنے بیٹے کو صوبائی حلقے میں الیکشن لڑوانا چاہتے ہیں جبکہ دانیال عزیز اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔