دانیال عزیز کا مستقبل

مزمل سہروردی  بدھ 6 دسمبر 2023
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز اور احسن اقبال پارٹی اندر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔اس سیاسی کھنچا تانی میں احسن اقبال انھیں شوکاز نوٹس دلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، دانیال عزیز اتحادی حکومت میں مہنگائی میں اضافے کی ذمے د اری احسن اقبال پر ڈالتے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی بیانئے کی کمزوری کی وجہ مریم اورنگزیب کو قرار دیتے ہیں، احسن اقبال سے ان کے اختلافات کی تو سب کو سمجھ آتی ہے، یہ مقامی سیاست میں برتری کی لڑائی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ایک صوبائی حلقے پر اختلافات ہیں۔لیکن مریم اورنگزیب کے ساتھ اختلاف نا قابل فہم ہے۔ بہر حال پہلے شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور دانیال عزیز سیاست کا موضوع ہے۔

دانیال عزیز کو ن لیگ نے شو کاز جاری کر رکھا ہے لیکن اس حوالے سے تا دم تحریر ان کا موقف ہے کہ انھیں شوکاز موصول نہیں ہوا، وہ میڈیا پر نشر ہونے والے ’’ شوکاز‘‘ کو شوکاز نوٹس نہیں مانتے ۔ ان کے مطابق جب تک با ضابطہ شوکاز نہیں ملے گا، وہ نہیں مانتے کہ انھیں پارٹی نے کوئی شوکاز جاری کیا ہے۔

منطقی اعتبار سے وہ درست کہتے ہیں،لیکن ان کی باڈی لینگویج کو دیکھ کرایسا لگتا ہے کہ اگر باضابطہ شوکاز جاری کیا جاتا ہے ، وہ تب بھی جواب دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ وہ یہی موقف رکھیں گے کہ انھیں شوکاز نہیں مل، جب ملے گا، تو جواب دوں گا۔

جہاں تک شوکاز کے جواب میں معافی مانگنے کا سوال ہے تو دانیال عزیز کا موقف ہے کہ معافی تو انھوں نے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے نہیں مانگی تھی اور پانچ سال کی نا اہلی قبول کر لی تھی، اب بھی ایسا نہیں ہوگا۔

دانیال عزیز اپنی طرف سے محتاط اور محفوظ پالیسی پر چل رہے ہیں، وہ پارٹی میں سوائے ایک دو افراد کے کسی کے بارے میں بیان دے دیتے، اتحادی حکومت کے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور  وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مہنگائی کا ذمے دار قرار دینے کے لیے تیار نہیں۔ البتہ احسن اقبال کو تنقید کا نشانہ ضرور بناتے ہیں۔

اس سارے معاملے کی مجھے تو یہی سمجھ آئی ہے لڑائی ایم پی اے کی سیٹ پر ہے ۔ احسن اقبال نے وہاں سے اپنے بیٹے کے لیے ٹکٹ مانگا ہے اور دانیال عزیز اس کی مخالفت کررہے ہیں، شاید وہ اس حلقے میں اپنے حمایت یافتہ شخص کو ٹکٹ دلانا چاہتے ہوں ۔

ایک حلقہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ دانیال عزیز نے مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کا ذہن بنا لیا ہے۔ وہ صرف ماحول بنا رہے ہیں تاکہ پارٹی چھوڑنے کی معقول وجہ مل جائے۔ ایک رائے یہ بھی سنی گئی ہے کہ ان کی کوشش یہ بھی ہے کہ اگر پارٹی انھیں نکال دے تو انھیں سیاسی شہید بننے کا موقع مل جائے گا۔

وہ کہیں گے کہ میں تو مہنگائی پر عوام کی ترجمانی کر رہا تھا، اسی جرم کی پاداش میں انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے، میں نے ماضی میں عوام کی ترجمانی پر نا اہلی بھی قبول کر لی تھی، اب بھی قبول ہے۔

میرا خیال ہے کہ دانیال عزیز یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے پارٹی کے لیے نا اہلی قبول کی ہے، اس قربانی کے باوجود انھیں پارٹی میں وہ مقام نہیں دیا گیا جو انھیں دیا جانا چاہیے تھا۔

اپنی نا اہلی کے بعد انھوں نے اپنی بیگم کو اپنی سیٹ سے الیکشن لڑوایا تھا اور سیٹ جیت بھی لی تھی۔ لیکن سیٹ جیتنے کی کارکردگی اور نا اہلی کے بعد بھی پارٹی میں وہ پوزیشن نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔ اس لیے وہ اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ ان کی پارٹی میں وہ اہمیت نہیں جو ہونی چاہیے تھی۔ بہرحال یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پارٹی کے اہم اور بڑے معاملات پر ہونے والی مشاورت میں انھیں شریک نہیں کیا گیا۔

پارٹی کے اندر اس ایشوکو دو زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ایک زاویہ اسے مقامی سیٹ کی لڑائی کے طور پر دیکھ رہاہے۔ دوسرا زاویہ کہتا ہے کہ اس موقع پر اختلافی بیان بازی کا مطلب پارٹی پارٹی کا نقصان کرنا ہے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں دانیال عزیز اور احسن اقبال کے تنازعے سے بلاول بھٹو کو فائدہ ہو رہا ہے۔ بلاول کے بیانیہ کو تقویت مل رہی ہے۔

یہ درست ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیے دانیال عزیز کو رکھنا بھی مشکل ہے اور انھیں نکالنا بھی مشکل ہے۔ لیکن اگر انھوں نے اپنے موقف میں لچک نہ پیدا کی تو انھیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ ہو جائے گا کیونکہ ان مخالفین کی پارٹی میں پوزیشن خاصی مضبوط ہے۔

وہ اکیلے نظر آرہے ہیں، پارٹی کے کسی لیڈر نے ان کی بات کی تائید نہیں کی ہے، کوئی ان کے ساتھ نہیںکھڑا نظرا ٓرہا ہے۔ وہ تنہا ہیں، وہ اپنی بات جہاں پہنچانا چاہتے تھے، بات وہاںپہنچ گئی ہے۔ لیکن وہاں تاحال خاموشی ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔