طویل مقدمہ بازی اور معمولی جرمانے

مزمل سہروردی  جمعـء 8 دسمبر 2023
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

سپریم کورٹ میں ایک خاتون کے حق مہر کے کیس میں شوہر کو بروقت حق مہر ادا نہ کرنے اور چھ سال تک اس حوالے سے مقدمہ بازی کرنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا ہے۔ میری نظر میں جرمانے کی رقم انتہائی کم ہے۔

کہاں چھ سال اور کہاں فقط ایک لاکھ روپے۔ چھ سال تک مقدمہ بازی کرتے کرتے مدعیہ خاتون کا کس قدر مالی نقصان ہو گیا ہوگا۔ کتنا وقت ضایع ہوا اور کتنا ذہنی دباؤ ہو گا‘ ان پہلوؤں کو مدنظر رکھیں تو اس کا معاوضہ ایک لاکھ کسی صورت بھی نہیں ہو سکتا۔

سپریم کورٹ تک وکلا کی فیس بھی ایک لاکھ روپے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اس لئے ایک لاکھ روپے جرمانہ کوئی سزا نہیں ہے۔

بلکہ میری نظر میں شوہروں کی ایک طرح سے حوصلہ افزائی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، ایک لاکھ روپے جرمانہ ہی ہوگا۔ چلو چھ سال تنگ کرتے ہیں۔ خاتون اور اس کے بہن بھائیوں کو عدالتوں کے چکر لگواتے ہیں۔ اگر خاتون میں ہمت ہوئی اور وہ چھ سال تک ثابت قدم رہی تو ایک لاکھ روپے جرمانہ دے دیںگے۔ اگر درمیان میں ہمت ہار گئی تو جیت کا جشن منا لیں گے۔

پاکستان کا نظام عدل کا یہ بہت بڑا نقص ہے کہ یہاں جیتنے والے سائل کو وکلاء کی فیس نہیں دلوائی جاتی۔ کئی بار نہیں بلکہ اکثر آپ مقدمہ جیت کر بھی ہار جاتے ہیں۔

مقدمہ لڑتے لڑتے آپ کا اس قدر نقصان ہو جاتا ہے کہ جیت آپ کے لئے بے معنی ہوجاتی۔ نقصان جیت سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس مقدمہ میں بھی خاتون کے وکلا کی فیس ادا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

مجھے امید ہے کہ معزز جج صاحبان کو اندازہ ہوگا کہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ ا ور نیچے کی عدالتوں میں بھی پیش ہونے کے لئے عام وکیل بھی اب ایک لاکھ روپے سے زیادہ فیس ہی مانگتا ہے۔ اس لئے اس مقدمہ میں بھی خاتون جیت کر بھی ہار گئی۔ ایک حق مہر لینے کے لئے اس نے اس سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ کر دی ہوگی۔ اس لئے یہ کوئی داد رسی نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کو چاہیے ایک جیوڈیشل آرڈر کریں کہ جب بھی کوئی مقدمہ دائر کیا جائے یا دوسرا فریق اس میں جواب دے تو ساتھ اپنی legal cost لکھے۔

وہ عدالت کو بتائے کہ اس نے اس مقدمہ کو دائر کرنے یا اس مقدمہ کو لڑنے کے لئے کتنے اخراجات کیے ہیں تا کہ اگر وہ جیت جائے تو اسے یہ اخراجات مل سکیں۔ اس سے عدالتوں میں جھوٹے اور فضول مقدمات دائر نہیں ہونگے۔ جب پتہ ہوگا کہ دوسرے فریق کے تمام اخراجات ادا کرنے پڑیں گے تو سوچ سمجھ کر مقدمہ دائر کریں گے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے نظام عدل کے ذمے داران کو ملک میں جاری معاشی حالات کا اندازہ ہے کہ بھی نہیں۔ کیا انھیں اندازہ ہے یا نہیں۔ ایک لاکھ روپے جرمانہ کی کیا حیثیت ہے۔ آج ایک لاکھ روپے میں کیا آتا ہے؟ سونے کی فی تولہ قیمت کیا ہے؟ زمین کس ریٹ پر ہے۔ ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ایک مذاق نہیں تو کیا ہے۔

جرمانے قصور وار فریق کو سزا دینے کے لئے کیے جاتے ہیں۔ فوجداری مقدمات میں تو جیل کی سزا دی جاتی ہے لیکن دیوانی مقدمات میں جہاں عدالت کے پاس جیل بھیجنے کے اختیارات نہیں ہوتے وہاں جرمانے سزا کے طور پر کیے جاتے ہیں اور ان کامقصد اتنی ہی تکلیف پہنچانا ہے جتنی جیل جانے سے ہوتی ہے۔ لیکن اگر جرمانے مذاق بن جائیں تو سار امقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے عدالتی نظام میں مالی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ یہ ایک مقدمہ نہیں جہاں میں نے عدالت کو اس طرح معمولی جرمانہ کرتے دیکھا ہے۔

حال ہی میں ایک خاتون صحافی جب اپنے خلاف جھوٹی خبر کا مقدمہ کئی سال بعد جیتی ہے تو بھی صرف پچاس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ ایک طرف کئی سال کی مقدمہ بازی دوسری طرف فقط پچاس ہزار کا جرمانہ۔ حالانکہ اتنے معمولی جرمانوں سے جرمانوں کا مذاق ہی بنتا ہے۔ کوئی آیندہ ایسی حرکت کرنے سے رکتا نہیں ہے۔

ہتک عزت کے مقدمات میں بھی بڑے جرمانے دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اول تو پاکستان میں ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ اگر ہو بھی جائے تو نظام عدل ڈگری کی رقم دیتے ہوئے ایسا محسوس کرتا ہے جیسے ان کی اپنی جیب سے پیسے جانے ہیں۔یہ بات سمجھی ہی نہیں جاتی کہ جرمانہ کوئی رعایت نہیں ہے کہ کم کیا جائے‘ یہ سزا ہے اور اسے سزا کے طور پر ہی دینا چاہیے۔

ضمانت میں بھی ایسے ہی کیا جاتا ہے‘ پچاس ہزار ایک لاکھ روپے کے ضمانت مچلکوں کے عوض ضمانت د ے دی جاتی ہے۔ لوگ ضمانت کو اسی لئے اہمیت نہیں دیتے کہ اتنی معمولی ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوتا۔ ضمانتی مچلکوں کی رقم ملزم کی مالی حیثیت کے مطابق ہونی چاہیے تا کہ وہ عدالت سے فرار نہ ہو۔یہ معمولی نوعیت کے ضمانتی مچلکے بھی نظام کے ساتھ مذاق ہی ہیں۔

اس سے بہتر ہے کہ شخصی ضمانت دی جائے۔ عدالتوں میں جعلی ضمانتی مچلکے دینے والے پھرتے ہیں۔ پچاس ہزار کی ضمانت دینے کا خرچہ بیس ہزار ہے۔ لوگ جعلی مچلکے دے دیتے ہیں۔ اگر ضمانت کی رقم کو معقول کیا جائے تو یہ جعلی مچلکے بھی ختم ہو جائیں گے۔

دیوانی مقدمات میں جرمانے کو ایک کلیدی حیثیت ہونی چاہیے۔ لیگل اخراجات کو ایک بنیادی حیثیت ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے۔

معمولی جرمانوں کو ختم کر دینا چاہیے۔ اس طرح چلانے سے ختم کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔ حال ہی میں ایک امیر کاروباری کو چند لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ جو بھی مذاق ہے۔ کسی سرمایہ دار کے لئے  دس پندرہ لاکھ روپے کچھ بھی نہیںہوتے ۔ اس کو یہ رقم دیتے ہوئے کوئی تکلیف نہیں ہوئی ہوگی۔ اس لئے جرمانہ کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔

ہمارے ملک میں جب کوئی فریق مقدمہ لڑ لڑ کر کوئی ڈگری اپنے حق میں حاصل کر ہی لیتا ہے۔ فرض کر لیں عدالت نے جرمانہ کر ہی دیا۔ اب پھر اس ڈگری کی رقم کو حاصل کرنا ایک اور دریا عبور کرنے کے مترادف کام ہے۔ اس ڈگری کی رقم کو حاصل کرنا ڈگری کو حاصل کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔

پہلے چھ سال مقدمہ لڑ کر ڈگری حاصل کرو پھر چھ سال اس ڈگری کی رقم حاصل کرنے کے لئے مقدمہ بازی کرو۔ کیونکہ پاکستان میں آپ کو دس سال بعد بھی وہی رقم ملنی ہے۔ حالانکہ جس دن ڈگری ہو عدالت کو یہ قرار دینا چاہیے کہ یہ پیسے اب ایسے سمجھیں جائیں کہ بینک میں ہے اور بینک سیونگ پر جو منافع دیتا ہے وہی اس ڈگر ی پر بھی ہوگا۔

آپ جتنے سال بعد پیسے دیں گے اتنے سال کا منافع دینا ہوگا۔ منافع ساتھ دینا ہوگا تو کم از کم فریق دباؤ میں ہوگا کہ رقم دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ابھی تو دس سال بعد بھی وہی رقم دینی ہے۔ اس لئے سب کوشش کرتے ہیں کہ جتنی تاخیر ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے۔

جرمانوں کا نظام بہتر کر لیا جائے تو عدلیہ پر سے جھوٹے دیوانی مقدمات کا بوجھ نصف سے بھی کم ہو جائے گا۔ لوگ سوچ سمجھ کر عدالت آئیں گے۔ کمزور مقدمات اورجھوٹے مقدمات نہیں لائے جائیں گے کہ دوسرے فریق کے لیگل اخراجات دینے پڑ جائیں گے۔

اس سے عدلیہ کی ساکھ بہتر ہوگی۔ اگر حق مہر کے کیس میں ایک لاکھ کی بجائے ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا جاتا تو پھر کوئی حق مہر نہ روکتا کہ ایک کر وڑ جرمانہ ہوجاتا ہے۔ ایک لاکھ سے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔