حزب اللہ سے فوجیوں کی ہلاکتوں کا بدلہ کب اور کیسے لیں، فیصلہ کرلیا؛ امریکا

ویب ڈیسک  بدھ 31 جنوری 2024
اردن میں امریکی بیس پر ڈرون حملے میں 3 فوجی ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، فوٹو: فائل

اردن میں امریکی بیس پر ڈرون حملے میں 3 فوجی ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، فوٹو: فائل

 واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ اردن میں اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے وقت اور طریقہ کار سے متعلق فیصلہ کرلیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اردن میں حزب اللہ کے ڈرون حملے میں اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت اور 40 سے زائد کے زخمی ہونے کا بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ بدلہ کب اور کیسے لینا ہے۔ اس کی حکمت عملی بھی طے کی کرلی ہے۔ اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کے ذمہ داروں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

مزید پڑھیں: 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت امریکا کیلئے پیغام ہے، حماس رہنما 

اس موقع پر ایک صحافی نے پوچھا کہ حزب اللہ کے پیچھے ایران ہوا تو کیا حکمت عملی ہوگی جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ایران لبنان اور اردن میں حزب اللہ کو اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے۔

جوبائیڈن نے مزید کہا کہ اگر ایران کی اس معاملے میں براہ راست ملوث ہونے کے شواہد ملے تو امریکی حکومت اس پر بیٹھ کر کوئی حکمت عملی طے کرے گی تاہم فی الوقت اس جنگ کو ہم وسیع پیمانے پر چھیڑنے کے حق میں نہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ واضح نہیں کہا کہ وہ کب اور کس طرح جوابی کریں گے لیکن امریکی حکام باور کراچکے ہیں ان حملوں پر ردعمل ماضی کے مقابلے میں سخت ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکی ردعمل کثیرالجہتی اور مرحلہ وار ہوسکتا ہے جو وقتاً فوقتاً جاری رہے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : شامی سرحد کے قریب ڈرون حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک، 30 زخمی

یاد رہے کہ دو روز قبل پینٹاگون کی ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اردن میں امریکی بیس پر حملے میں عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے “فنگر پرنٹس” تھے اور ایران انھیں اسلحہ اور فنڈز فراہم کرتا ہے۔

ادھر ایران نے حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اردن میں امریکی فوج کے بیس پر ڈرون حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ خبریں شرپسند علاقے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے لیے پھیلا رہے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔