امریکا کے رکن پارلیمنٹ کا انسٹاگرام کے خلاف بیٹے کی خودکشی کا مقدمہ

ویب ڈیسک  بدھ 31 جنوری 2024
کیرولینا کے رکن پارلیمنٹ برینڈن گوفی نے انسٹاگرام پر غفلت کا الزام عائد کیا—فوٹو: سی این این

کیرولینا کے رکن پارلیمنٹ برینڈن گوفی نے انسٹاگرام پر غفلت کا الزام عائد کیا—فوٹو: سی این این

جنوبی کیرولینا: امریکی ریاست کیرولینا کی پارلیمنٹ کے رکن برینڈن گوفی نے اپنے بڑے بیٹے کی خودکشی کے بعد انسٹا گرام کے خلاف مقدمہ کردیا اور الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو فحش تصاویر پر بھتہ دینے کے لیے دھمکایا جا رہا تھا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق برینڈن گفی نے بتایا کہ انہیں بیٹے کی تدفین کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد انسٹاگرام پر خوشی کا اظہار کرنے والے ایموجی کے پیغام ملا، جس کے بعد انہوں نے بیٹے کی موت کے محرکات کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے اور چھوٹے بیٹے کو میسجز کے ذریعے مرحوم بیٹے کی تصاویر کے بدلے  پیسوں کا مطالبہ کیا جانے لگا، اسی طرح گیون گوفی کی فرینڈ لسٹ میں شامل ایک ایسے شخص کو بھی اسی طرح کے پیغامات مل رہے تھے جس کے نام کے ساتھ گفی آتا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب اہل خانہ نے گیون کے آخری دنوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کی تو معلوم ہوا کہ ان کو انسٹاگرام میں ایک جعلساز جنسی بھتہ کا شکار بنا رہا تھا۔

امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے مطابق جنسی بھتہ کا شکار اکثر نابالغ لڑکے ہوتے ہیں اور اس سے ملک بھر میں خود کشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔

سی این این کے مطابق کیرولینا کے رکن اسمبلی اب انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف اپنے بیٹے کی موت کا مقدمہ کرنے جارہے ہیں اور الزام ہے کہ کمپنی نے بدترین غفلت کا مظاہرہ کیا اور اس جیسے مزید بچوں کو آن لائن تحفظ دینے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ باپ نے جنوبی کیرولینا میں گزشتہ ہفتے کیس دائر کیا تھا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم میٹا کو بچوں کے مسائل میں اضافہ سمیت ڈپریشن، بے چینی اور کھانے کی بیماریوں کے حوالے سے ملزم قرار دیتے ہوئے فریق بنایا ہے۔

رکن پارلیمنٹ نے میٹا پر الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ راغب کرنے کے لیے الگوریتھمز کا استعمال کرتی ہے لیکن انہیں نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔

سی این این کو میٹا کے ترجمان نے الزامات کا براہ راست جواب نہیں دیا تاہم بتایا کہ کم عمروں کا تحفظ کمپنی کی اولین ترجیح ہے اور نوجوان صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور انہیں نشانہ بنانے کی صورت میں جوابی کارروائی میں مدد کی جاتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔