حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا امکان

ویب ڈیسک  بدھ 21 فروری 2024
امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے حماس اور اسرائیل کی قیادت سے بات چیت کی ہے، فوٹو: فائل

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے حماس اور اسرائیل کی قیادت سے بات چیت کی ہے، فوٹو: فائل

تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق پیش رفت کی امید پھر سے جاگ اُٹھی ہے۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیکر انکشاف کیا ہے کہ امریکی ادارے ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز کی حماس اور اسرائیل کی قیادت سے رابطوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے ان رابطوں میں امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مشیر بریٹ میک گرک نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ خبر پڑھیں : امریکا کے اقوام متحدہ میں غزہ کی قرارداد کو ناکام بنانے پر حماس کا ردعمل آگیا

خیال رہے کہ اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں حماس کا ایک وفد اس وقت مصر کے دورے پر ہے اور وہاں کی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت بھی کی۔

قیدیوں کی فائل اور جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر متوقع اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرنے کے لیے میک گرک آج مصر کا بھی دورہ کریں گے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر معاہدے کے لیے امریکا، قطر، اردن اور مصر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوجاتے ہیں۔

جس کے بعد سے یہ گمان ہونے لگا تھا کہ شاید اب جنگ کے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل سیز فائر ممکن نہیں ہوسکے گا تاہم امریکی سی آئی اے نے ایک امید پھر پیدا کردی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : اقوام متحدہ میں امریکا نے مسلسل تیسری بار اسرائیل کیخلاف قرارداد ویٹو کردی 

ادھر اسرائیل نے اپنے تمام یرغمالیوں کی فوری طور پر رہا کرنے پر رفح میں بڑی عسکری کارروائی کی دھمکی دی ہے جہاں لاکھوں فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری حماس اسرائیل جنگ میں گزشتہ برس نومبر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی ہوئی تھی جس کے دوران حماس نے 100 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا جس کے بدلے اسرائیل نے تقریباً 300 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

اس وقت حماس کے پاس 132 اسرائیلی یرغمالی ہیں جن میں سے 29 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔