ایوان نہیں میدان

اشفاق اللہ جان ڈاگیوال  جمعرات 22 فروری 2024
ashfaqkhan@express.com.pk

[email protected]

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فرسودہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام اپنی موت آپ مرچکا ہے، مگر اس کی لاش کو دفنانے کے بجائے اس کے بینیفشری اسے کندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں تاکہ ’’گلشن کا کاروبار‘‘ مزید کچھ دیر چلایا جاسکے، جو بظاہر مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ جنرل الیکشن غلاظت کا ایک ایسا جوہڑ ثابت ہوا جس میں کوئی بھی آئے روز پتھر پھینک دیتا ہے اور اس کے چھینٹوں سے سب داغدار ہورہے ہیں، چارسو تعفن پھیلنے سے ہر کسی کا دم گھٹنے لگا ہے۔

بیشک آٹھ فروری کا الیکشن صبح8 بجے سے شام 7بجے تک منصفانہ اور آزادانہ تھے مگر رات کی تاریکی میں شروع کی گئی انجینئرنگ تادم تحریر جاری ہے، عوام کے مینڈیٹ میں عجیب انداز میں تراش خراش کی گئی‘ مذہبی سیاسی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں کے علاوہ سب کو اپنے اپنے علاقے بلکہ صوبے الاٹ کر دیے گئے۔ سیاسی جماعتوں کو ایسے نتائج تھمانے کی کوشش کی گئی جن سے ملک میں استحکام کے بجائے انتشار پیدا ہوگیا ہے۔

ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کو واضح طور پر نوازاگیا‘ دونوں انتخابی نتائج پر شاد و مسرور ہیں۔ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے خلاف اگر ایک جگہ دھاندلی کی گئی تو دوسری جگہ ان کے لیے دھاندلا کیا گیا‘ مسلم لیگ تو پنجاب اور وفاق کی حکومتیں لے کر مطمئن ہے مگر پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا جیت کر بھی الیکشن چوری کی شکایت ہے۔

پاکستان میں صرف 1970 کے الیکشن کو شفاف قرار دیا جاتا ہے لیکن اس وقت کے لاڈلے نے انتخابی نتائج تسلیم نہیں کیے، ملک ٹوٹ گیا اور بچے کچے پاکستان پر اسی لاڈلے کو مسلط کیا گیا۔ اس لاڈستان میں ہر وقت ایک لاڈلا ضرور ہوتا ہے۔

الیکشن 2024کے نتائج آنے پر لاڈستان کے آسمان پر چھائی دھاندلی کی اسموگ میں نئے لاڈلے کی تلاش جاری ہے۔ پی ٹی آئی والے تو کہتے ہیں کہ نواز شریف مانسہرہ ہی سے نہیں لاہور سے بھی شکست کھا چکے تھے مگر نوازے گئے۔

یہ پراپیگنڈا بھی ہو رہا ہے کہ این اے 130 لاہور میں الیکشن کمیشن نے جو فارم47 اپ لوڈ کیا تھا اس کے مطابق یہاں کل ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد دو لاکھ 93 ہزار 693 تھی اور مسترد شدہ ووٹ نکالنے کے بعد درست ووٹوں کی تعدادکل ووٹوں سے بڑھ کر دو لاکھ 94 ہزار 43 کیسے ہوگئی؟ اسی فارم 47 کے مطابق پی پی پی، جماعت اسلامی، جے یو آئی سمیت اور کئی آزاد امیدواروں کو ایک بھی ووٹ نہیں ملا۔ یعنی ان امیدواروں نے خود کو بھی ووٹ نہیں ڈالا، یہ فارم 47 اب الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔

این اے 191 جیکب آباد کم کشمور میں فارم 45 کے مطابق جے یو آئی کے امیدوار شاہ زین خان10 ہزار سے زیادہ لیڈ سے جیت چکے ہیں مگر فارم 47 کے مطابق پی پی پی کے امیدوار علی مزاری کو کامیاب قرار دیا گیا اور جیتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے امیدوار کو 3310 ووٹوں سے ہروایا گیا، جب کہ مسترد شدہ ووٹ 15975 لکھے گئے ہیں جو اس نتیجہ کو مشکوک قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ محمود خان اچکزئی کے حق میں دستبردار ہونے والے مسلم لیگ کے امیدوار کو فارم 47 میں جتوایا گیا، ان کو اپنی جیت کا تب پتہ چلا جب لوگ مبارکباد دینے گھر ان کے پہنچ گئے۔

مبینہ طور پر پی کے 79 پشاور آٹھ کی سیٹ پر ایک افغان شہری جلال خان کو پاکستان مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر جتوایا گیا، جس نے ہمارے انتخابی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا کہ یہاں کسی بھی ملک کا شہری الیکشن لڑکر قانون ساز ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرا الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈڈ فارم 47 سے لیے گئے چند اعداد و شمار ملاحظہ کریں۔ جس کے مطابق لاہور سے قومی اسمبلی کی تمام 14 نشستوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد30 لاکھ 18 ہزار 565 ہے اور صوبائی کی تمام 30 سیٹوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 28 لاکھ 63 ہزار 755 ہے۔ پتہ نہیں وہ کونسے ایک لاکھ چوون ہزار8 سو 10 لاہوریے تھے جو قومی اسمبلی کے ووٹ ڈال کر صوبائی اسمبلی کے ووٹ ڈالنا بھول گئے؟

مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق ان کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ان کا دعویٰ براہ راست اسٹیبلشمنٹ پر ہے آج کل ان کے انٹرویوز نے ہلچل مچا رکھی ہے، مولانا کہتے ہیںکہ ’’اس بار لاڈلے بڑھ گئے تھے اور لاڈلے بڑھیں گے تو لالے بھی پڑیں گے‘‘۔ مولانا الزام لگاتے ہیں کہ ’’پورے کا پورا الیکشن چوری ہوا ہے، ہر جگہ بد ترین دھاندلی ہوئی، ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا اس لیے ہم نے ان انتخابات کو باقاعدہ طور پر مسترد کردیا ہے اور تحریک چلانے کا اعلان کر چکے ہیں، دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کریں گے اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے‘‘۔ مولانا کے بیان نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، خاص طور پر لاڈلوں اور ان کے پالن ہاروں کو لالے پڑگئے ہیں۔

مولانا کے انکشافات سے اٹھنے والی دھول پوری طرح نہیں بیٹھی تھی کہ کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے اس پورے نظام پر خودکش حملہ کردیا، انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’’راولپنڈی ڈویژن میں انتخابی دھاندلی کی ذمے داری قبول کرتا ہوں اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں، میں اپنے ضمیر کا بوجھ اتار رہا ہوں، صبح نماز کے وقت خود کشی کی بھی کوشش کی پھرسوچا حرام موت کیوں مروں، کیوں نا سب کچھ عوام کے سامنے رکھوں۔

لیاقت علی چٹھہ نے کہا ہے کہ 70، 70 ہزار کی لیڈ سے جیتنے والوں کو ہم نے ہروایا، مجھے راولپنڈی کچہری چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے، میں سکون کی موت مرنا چاہتا ہوں‘‘ انھوں نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پر بھی الزام لگایا ہے۔ ہو سکتا ہے اپنی رٹائرمنٹ سے چند دن پہلے ان کے ضمیر کا اچانک جاگنا سسٹم کو لپیٹنے کی سازش ہو، اگر یہ اعترافی بیان درست ہے تو ان کو پھانسی ملے یا نہ ملے انھوں نے پورے نظام کو بیچ چوراہے ننگا لٹکا دیا ہے جسے دفنانے تک تعفن پھیلتا رہے گا۔ سوشل میڈیا پر وائرل نواز شریف کے مانسہرہ کے حلقے کے جعلی بیلٹ پیپرز کی ایک پرائیویٹ پرنٹنگ پریس میں پرنٹنگ کے ایک مشکوک وڈیو نے نیا کٹا کھول دیا۔ اگرچہ ہم بہت کھو چکے ہیں مگر مایوسی کفر ہے اب بھی اگر ہوش کے ناخن لیں، پاکستان کے ساتھ مزید کھلواڑ بند کریں تو حالات سدھارے جا سکتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کو بے ضابطگیوں یا دھاندلی کی تحقیقات کرانی چاہیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان فارم 45 اور فارم 47 کے فرانزک آڈیٹ کا ایک بااختیار کمیشن بنوائیں تاکہ حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔ ان حالات میں اگر شہباز شریف پھر معلق پارلیمنٹ کے ذریعے ایوان اقتدار تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ مسلم لیگ ن کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہو گا۔

دھاندلی کی تحقیقات اور ذمے داران کے تعین تک تمام پارٹیوں پر مشتمل محمد علی درانی کا مجوزہ یونیٹی گورنمنٹ واحد راستہ ہے اس دلدل سے نکلنے اور سسٹم کو بچانے کا۔ اگر اس میں تاخیر کی گئی تو لگتا ہے کہ جمہوریت کی بساط لمبی مدت کے لیے لپیٹ کر مارشل لا لگانا ناگزیر ہوجائے گا۔ مقتدر حلقوں کو مذہبی رواداری کے علمبردار مولانا فضل الرحمن جیسے زیرک، بردبار اور جمہوریت پسند سیاستدان کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے کہ ’’ہم چاروں صوبوں کی مجالس عمومی میں اپنی جماعت سے رائے لیں گے کہ ہمیں پارلیمانی سیاست جاری رکھنی ہے یا اپنے اہداف کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ہے۔‘‘ اپنے مینڈیٹ کا یہ حشر دیکھتے ہوئے اگر انھوں نے ایوان کی جگہ مستقل طور پر میدان کا انتخاب کیا تو بہت بڑا المیہ ہوگا۔

اگر کوئی سمجھنا چاہے تو مسئلے کی حساسیت کو سمجھنے کے لیے مولانا کے یہی چند الفاظ کافی ہیں اس لیے ہنگامی بنیادوں پر بلا تاخیر ناانصافیوں کا ازالہ کرکے حق، حقدار کے حوالے کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔