طالبان کے حکم پر سرعام 2 مجرموں کو گولیاں مار کر سزائے موت دیدی گئی

ویب ڈیسک  جمعرات 22 فروری 2024
دونوں مجرموں کو مقتولین کے ورثا نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اسٹیڈیم میں گولیاں ماریں، فوٹو: فائل

دونوں مجرموں کو مقتولین کے ورثا نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اسٹیڈیم میں گولیاں ماریں، فوٹو: فائل

کابل: طالبان عدالت کی قتل کے دو مجرموں کو دی گئی سزائے موت پر ہزاروں شہریوں کی موجودگی میں لواحقین سے قاتلوں کو سرعام گولیاں مروا کر عمل درآمد کردیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قتل کے مجرموں سید جمال اور گل خان کی سزائے موت پر عمل درآمد افغانستان کے صوبے غزنی کے ایک معروف اسٹیڈیم میں کیا گیا۔

ایک مجرم کو 8 اور دوسرے مجرم کو 7 گولیاں لگیں اور دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس سے قبل مجرموں کے اہل خانہ نے مقتولین کے ورثا سے معاف کرنے کی اپیل بھی کی تھی لیکن اسے مسترد کردیا گیا۔

ان دونوں مجرموں پر چاقو کا حملہ کرکے الگ الگ واقعے میں دو شہریوں کو قتل کردیا تھا۔ طالبان حکومت کے نے نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا بلکہ آلۂ قتل برآمد کرکے مضبوط شواہد عدالت کے سامنے رکھے۔

طالبان حکومت کی جانب سے جاری بیان میں یہ کہا گیا کہ 3 نچلی عدالتوں اور طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ان کے مبینہ جرائم کے بدلے میں پھانسی کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے یہ سرعام پھانسی کی تیسرا اور چوتھا واقعہ ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔