مستعفی ہونے سے کارروائی نہیں رک سکتی

مزمل سہروردی  جمعـء 23 فروری 2024
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ میں سپریم جوڈیشل کونسل کو جج کے مستعفی ہونے کے بعد بھی کارروائی جاری رکھنے کا اختیار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی جانے والی ایک درخواست پر یہ فیصلہ دیا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کا ہی ایک فیصلہ موجود تھا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل کو جج کے مستعفی ہونے کے بعد کارروائی سے روک دیا گیا ہوا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ سے جب بھی کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا آغاز ہوتا اور وہ دیکھتا کہ فیصلہ اس کے خلاف آنے والا ہے تو وہ مستعفی ہو جاتا جس کے بعد کارروائی روک دی جاتی۔

میرا پہلے دن سے یہ موقف رہا کہ اس طرح استعفیٰ صرف احتساب سے بچنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ بلکہ ایسا استعفیٰ تو اقرار جرم کے مانند ہے۔ آپ اقرار کرتے ہیں کہ آپ کے خلاف ثبوت درست ہیں لیکن چونکہ اب آپ کے خلاف کارروائی ہونے لگی ہے اور آپ کارروائی سے بچنے کے لیے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔

استعفیٰ دیا ، تمام مراعات لیں۔ کئی مواقع پر تو پنشن بھی مل جاتی تھی، اور گھر چلے گئے۔ کیس بھی ختم۔ یہ تو باعزت فرار کا ایک بہترین راستہ تھا۔ اس سے پہلے بھی کئی جج ایسے ہی استعفیٰ دیکر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے بچ گئے تھے اور انھوں نے استعفیٰ کو بچنے کے لیے استعمال کیا۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ وہ جج جب استعفیٰ دے دیتا ہے تو عدلیہ تو ایک کرپٹ جج سے پاک ہو جاتی ہے۔ عدلیہ کو پاک کرنے کا مقصد تو حل ہو جاتا ہے۔ جب وہ جج نہیں رہا تو ایک بڑ امقصد حاصل ہو گیا ہے۔

اس لیے استعفیٰ دینا ایک کافی بڑی سزا ہے۔ اس کے بعد کسی اور سزا کی کیا ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ کافی کمزور مقصد ہے۔ جو جرم ہوا ہے، جو کرپشن ہوئی ہے، جو مس کنڈکٹ ہوا ہے اس کی سزا ملنی چاہیے۔ اس طرح استعفیٰ دینا کافی نہیں ہے۔ میں عدلیہ کی مکمل آزادی کے حق میں ہوں۔

جج پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مس کنڈکٹ اور کرپشن کی بھی آزادی نہیں ہونی چاہیے۔ بہر حال جج پر ایک احتساب کا نظام ہونا چاہیے اور احتساب کا یہ نظام لولا لنگڑا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک استعفیٰ کے بعد ختم ہی ہوجائے۔ ایک استعفیٰ سارے نظام کو مفلوج کر دے۔

میں تو اب بھی سمجھتا ہوں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشانات ہیں۔ کئی دہائیوں سے پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کوئی کارکردگی ہی نہیں ہے۔ جیسے سپریم کورٹ میں کبھی فل کورٹ نہیں ہوا تھا۔ ایسے ہی سپریم جوڈیشل کونسل بھی عملی طور پر معطل ہی رہی ہے۔

آپ ایک آدھے کیس کا ریفرنس تو دے سکتے ہیں لیکن عمومی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ تو ممکن نہیں اس دوران عدلیہ کے کسی جج نے کوئی کرپشن ہی نہیں کی۔ یہ بھی ممکن نہیں اس دوران عدلیہ کا کوئی جج مس کنڈکٹ کا مرتکب نہیں ہوا ہے۔ لیکن کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

ججز کو احتساب کے معاملہ میں مقدس گائے نہیں ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ جج کو ایک خاص تحفظ ہوتا ہے تا کہ وہ آزادی سے کام کر سکے۔ لیکن کرپشن اور مس کنڈکٹ کی آزادی نہیں دی جا سکتی۔ شتر بے مہار تحفظ نے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ججز نے خود کو قانون اور آئین سے مبرا سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ انھیں ایک خاص احساس ہو گیا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ ان میں ایک خاص طاقت ہے جس کے سامنے سب بے بس ہیں۔

اب جسٹس مظاہر علی نقوی کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں۔ یہ سب تنازعہ ان کے استعفیٰ سے شروع ہوا ہے۔ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایات آئیں۔ پہلے تو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے دور میں ان شکایات پر کوئی کارروائی ہی نہیں کی۔ بلکہ انھوں نے ان شکایات کے موصول ہونے کے کئی ماہ تک سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہی نہیں بلایا۔ اب یہ سپریم جوڈیشل کونسل کاسب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وہاں اگر شکایت آبھی جائے تو پہلے اجلاس ہی نہیں بلایا جاتا تھا۔

اس طرح شکایت پڑی پڑی ختم ہو جاتی تھی۔ جج ریٹائر ہو جاتا تھا لیکن اجلاس نہیں بلایا جاتا۔ جسٹس مظاہر علی نقوی کے معاملہ میں بھی سابق چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کئی ماہ اجلاس نہیں بلایا اور سب خاموش رہے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی سابق چیف جسٹس عمر عطا ء بندیال کے دور میں چاہتے تھے کہ اجلاس بلایا جائے۔ لیکن پھر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب اجلاس بلا لیا تو انھیں اجلاس بلانے پر بھی اعتراض تھا۔

اب جسٹس مظاہر علی نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران ہی استعفیٰ دے دیا۔ انھوں نے تحقیقات کے درمیان میں استعفیٰ دے دیا اور یہ قانونی دفاع لے لیا کہ اب جب انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے تو قانون کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل مستعفی جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔ صاف نظر آرہا تھا کہ انھوں نے تحقیقات کو روکنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے۔

اس سے پہلے انھوں نے کمیشن کے ممبران پر اعتراض کیا پھر بنچ پر اعتراض کیا۔ سارے اعتراضات کا ایک ہی مقصد نظرآ رہا تھا کہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری تحقیقات منطقی انجام تک نہ پہنچ سکیں۔

میں جسٹس مظاہر علی نقوی کی اس دلیل کو درست نہیں سمجھتا کہ جج اپنی ساکھ کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے بھی مستعفیٰ ہو سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے استعفیٰ کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ اس نے تحقیقات کو روکنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے۔ تحقیقات سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے بھی استعفیٰ دیا جا سکتا ہے۔

میں نہیں سمجھتا یہ درست ہے کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ساکھ کے نقصان کی وجہ سے جج صاحب کام جاری نہیں رکھنا چاہتے تو تحقیقات کے مکمل ہونے اور کلین چٹ ملنے کے بعد بھی استعفیٰ دے سکتے ہیں۔لیکن ساکھ کو بنیاد بنا کر تحقیقات کو روکنا کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں سپریم جوڈیشل کونسل جب کسی جج کے خلاف تحقیقات پر کسی نتیجہ پر پہنچ جائے تو سزا سے صرف جج کو نکالنا کافی نہیں بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ کیس بھی چلنا چاہیے۔

اب اگر کرپشن کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔ آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ثابت ہو گیا ہے تو نیب میں کیس کیوں نہیں بھیجا جا سکتا۔ جج کے خلاف ریفرنس کیوں نہیں آسکتا۔ جج کا احتساب تو زیادہ سخت ہونا چاہیے۔ جج کی معافی تو نا ممکن ہونی چاہیے۔ تا کہ ڈر زیادہ رہے کہ بچنا ناممکن ہے۔ ابھی تو یہ تاثر بھی ہے کہ ہمارا کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ ہم بہت محفوظ ہیں۔ جس کی وجہ سے کافی خرابی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔