پاکستان، آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام میں 6 بلین ڈالر مانگے گا، بلوم برگ

ویب ڈیسک  جمعـء 23 فروری 2024
نئی حکومت کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہوگی، امریکی جریدہ۔ فوٹو: فائل

نئی حکومت کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہوگی، امریکی جریدہ۔ فوٹو: فائل

 نیویارک: امریکی جریدے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے نئے قرضہ پروگرام میں کم از کم 6 بلین ڈالر کا حصول کرے گا۔

امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق پاکستان اس سال واجب الادا اربوں کا قرض ادا کرنے میں مدد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کم از کم 6 بلین ڈالرز کا نیا قرض حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک آئی ایم ایف کے ساتھ ایک توسیعی فنڈ کی سہولت پر بات چیت کرنے کی کوشش کرے گا، عالمی قرض دہندہ کے ساتھ بات چیت مارچ یا اپریل میں شروع ہونے کی امید ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ موسم گرما میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قلیل مدتی بیل آؤٹ کی بدولت ڈیفالٹ کو ٹال دیا تھا، لیکن یہ پروگرام اگلے ماہ ختم ہو رہا ہے اور نئی حکومت کو 350 بلین ڈالر کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے طویل مدتی انتظامات پر بات چیت کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے آئی ایم ایف کی 26 میں سے 25 شرائط پر عمل درآمد کردیا

بیل آؤٹ سے قبل پاکستان کو آئی ایم ایف کے مطالبات پر متعدد اقدامات کرنے پڑے، جن میں بجٹ پر نظر ثانی، بینچ مارک سود کی شرح میں اضافہ اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔ آئی ایم ایف کا عملہ طویل المدتی اصلاحات کی ضرورت پر حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایک ترجمان نے کہا کہ اگر درخواست کی جائے تو پاکستان میں جاری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئے انتظام کے ذریعے انتخابات کے بعد کی حکومت کی مدد کے لیے فنڈز دستیاب ہیں۔

پاکستان کے نگراں وزیر خزانہ نے بلوم برگ کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

پیر کے روز ریٹنگ ایجنسی فچ نے کہا تھا کہ پاکستان کی کمزور بیرونی پوزیشن کا مطلب یہ ہے کہ کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے مالی اعانت حاصل کرنا اگلی حکومت کو درپیش سب سے فوری مسائل میں سے ایک ہو گا۔

فچ کے مطابق ایک نیا معاہدہ ملک کے کریڈٹ پروفائل کی کلید ہے اور یہ چند مہینوں میں حاصل ہو جائے گا، لیکن طویل مذاکرات یا اسے محفوظ بنانے میں ناکامی بیرونی لیکویڈیٹی تناؤ کو بڑھا دے گی اور ڈیفالٹ کے امکان کو بڑھا دے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔