عمران خان سے وکلا اور سیاسی معاونین کو تنہائی میں ملاقات کی اجازت

ویب ڈیسک  پير 26 فروری 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلا اور سیاسی معاونین کو تنہائی میں ملاقات کی اجازت دے دی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل مینوئل کے مطابق وکلا اور سیاسی معاونین کو پرائیویسی (تنہائی) میں ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملاقات کے دوران کوئی اہل کار کھڑا نہیں ہوگا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی وکلا اور سیاسی معاونین سے پرائیویسی میں ملاقات کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ وکیل شیر افضل مروت نے دوران سماعت دلائل دیے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے وکلا سے اکیلے میں بات نہیں کرنے دی جاتی۔ وکلا سے ملاقات کے دوران 2 جیل اہل کار زبردستی موجود ہوتے ہیں۔

وکیل ے بتایا کہ جیل انتظامیہ نئے پارٹی ممبران، نو منتخب اراکین سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی۔ عدالت سے استدعا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بانی پی ٹی آئی کی وکلا اور سیاسی معاونین سے اکیلے میں ملاقات کرانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

بعد ازاں عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جیل مینوئل کے مطابق وکلا کو پرائیویسی میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ وکلا کی ملاقات کے دوران کوئی اہلکار کھڑا نہیں ہوگا ۔ عدالت نے وکلا کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران کاغذات اور پینسل لے جانے کی بھی اجازت دے دی۔

وکیل نے کہا کہ وکلا کے کاغذات اور دیگر چیزوں کو اسکین کرلیا جاتا ہے، جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے تحریری حکمنامہ جاری کردیں گے۔ جیل میں ملاقات سے متعلق ساری درخواستیں نمٹا رہے ہیں۔ آئندہ درخواست دائر نہ کریں ۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیاسی معاونین سے بھی ملاقات کرانے کی استدعا منظور کرلی اور جیل انتظامیہ کو احکامات جاری کرتے ہوئےدرخواستیں نمٹا دیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔