آسام میں مسلم شادی اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ ختم کردیا گیا

ویب ڈیسک  پير 26 فروری 2024
یہ مذہبی آزادی چیھننے اور شریعت پر عمل درآمد سے روکنے کے مترادف ہے، مسلم رہنما

یہ مذہبی آزادی چیھننے اور شریعت پر عمل درآمد سے روکنے کے مترادف ہے، مسلم رہنما

دسپور: مودی سرکار نے اپنی ایک اور مسلم دشمن پالیسی کے تحت بھارتی ریاست آسام میں مسلم شادی اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ 1935 ختم کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کی حکومت نے مودی سرکار کے بھارت بھر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد اپنی ریاست میں بھی مسلم شادی اور طلاق کے برسوں سے چلے آئے رجسٹریشن سسٹم کو ختم کر دیا۔

آسام کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے ختم ہونے اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے ریاست میں کم عمری میں ہونے والی شادیوں کو روکا جاسکے گا۔

دوسری جانب مسلم ارکان اسمبلی اور سماجی ہنماؤں نے آسام حکومت کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام مسلمانوں سے ان کی مذہبی آزادی چیھننے اور اپنی شریعت پر عمل درآمد سے روکنے کے مترادف ہے۔

یہ خبر پڑھیں : بھارت؛ شرعی قوانین کی جگہ متنازع بل کے نفاذ پر احتجاج اور مظاہرے

خیال رہے کہ مودی سرکار نے ملک بھر میں یکساں سول کوڈ اس وقت نافذ کیا ہے جب ملک میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور بی جے پی ہندوؤں کے جذبات اکسا کر ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔