طالبان حکومت سرِعام پھانسی دینا بند کرے، اقوام متحدہ

ویب ڈیسک  جمعرات 29 فروری 2024
سرعام پھانسی دینا ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک یا سزا کی ایک شکل ہے، ترجمان انسانی حقوق کمشنر

سرعام پھانسی دینا ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک یا سزا کی ایک شکل ہے، ترجمان انسانی حقوق کمشنر

جنیوا: اقوام متحدہ نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں سرعام پھانسی دینے کا ظلمانہ سلسلہ روک دے۔

عالمی خبر رساں کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا کہ گزشتہ ہفتے افغانستان کے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں 2 افراد کو سرعام پھانسی دیئے جانا پریشان کن ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے افغانستان میں سرعام پھانسیوں کی مذمت کرتے ہوئے طالبان پر زور دیا کہ وہ سزائے موت کا استعمال بند کریں۔

یہ خبر بھی پڑھیں : طالبان کے حکم پر سرعام 2 مجرموں کو گولیاں مار کر سزائے موت دیدی گئی 

اپنے بیان میں جیریمی لارنس نے کہا کہ سرعام پھانسی دینا ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک یا سزا کی ایک شکل ہے جو شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت محفوظ زندگی کے حق کے منافی عمل ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان کو اس بین الااقوامی معاہدے کا ایک فریق ہونے کی حیثیت سے معاہدے کی پاسداری کرنا چاہیے۔

امریکا جو واحد مغربی ملک ہے جو اب بھی سزائے موت پر عمل پیرا ہے تاہم اُس نے بھی افغانستان میں سرعام پھانسیوں کی مذمت کی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ سرعام پھانسی کی سزا دینا بربریت کی ایک اور علامت ہے جو افغان حکومت اپنے ہی لوگوں کے سامنے دکھاتی ہے۔

امریکی میڈیا کے بقول 1996 سے 2001 تک کے اپنے پہلے دور حکومت میں طالبان نے سرعام پھانسیاں عام تھیں لیکن اس بار توقع تھی کہ طالبان پرانی روش کے بجائے کچھ نرمی دکھائیں گے۔

یاد رہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط شدہ موت کے وارنٹ پر گزشتہ ہفتے 2 مجرموں کو مقتولین کے لواحقین نے سرعام گولیاں مار کر عمل درآمد کیا تھا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔