سینیٹ اجلاس؛ فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت، ایئرفورس سے مدد کا مطالبہ

ویب ڈیسک  پير 4 مارچ 2024
مسلمان ممالک کو چاہیے کہ اپنی اپنی ایئر فورسز کے ذریعے کم ازکم ائیر سیفٹی ہی فراہم کردیں، سینیٹر افنان اللہ

مسلمان ممالک کو چاہیے کہ اپنی اپنی ایئر فورسز کے ذریعے کم ازکم ائیر سیفٹی ہی فراہم کردیں، سینیٹر افنان اللہ

 اسلام آباد: سینیٹ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی گئی اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا۔

سینیٹ کا اجلاس مرزا آفریدی کی زیرصدارت ہوا جس میں سینیٹر بہرہ مند تنگی نے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی اپنی قرارداد واپس لے لی۔ سینیٹر بہرہ مند تنگی کی سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر منفی اثرات سے متعلق قرار داد ایوان بالا کے ایجنڈے میں شامل تھی۔

اجلاس میں 29فروری کو اسرائیلی فوج کی جانب سے خوراک کیلئے جمع فلسطینیوں کے قتل عام کیخلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی۔

سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ امداد لینے کیلئے جانے والوں پر فضائی بمباری انتہائی قابل مذمت ہے، مسلمان ممالک کو چاہیے کہ مظلوم فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے کیلئے اپنی اپنی ایئر فورسز کے ذریعے کم ازکم ائیر سیفٹی ہی فراہم کردیں۔

سینیٹر پلوشہ نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی پر اسلامی ممالک کو شرم آنی چاہئے، اللہ کرے تیل کی دولت سے مالا مال مسلمان ممالک کے تیل کے کنویں خشک ہوجائیں کیونکہ وہ فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دے رہے، اسرائیل کیخلاف عملی اقدامات اٹھانا چاہئیں۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے اور ہم خاموش ہیں، پاکستان میں اس ایشو پر مظاہرے ہوئے تو ان پر لاٹھی چارج ہوجاتا ہے، ہمیں اب قراردادوں سے آگے نکلنا ہوگا، ہمیں جاگنے کیلئے اور کتنی لاشیں چاہئیں۔

سینیٹر کامران نے کہا کہ اسرائیل کی مذمت ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے، ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے، جو لوگ پارٹیوں کی سطح پر حماس سے ملے ہیں ان کیلئے پاکستان کی زمین بھی تنگ کی جارہی ہے، ان کیلئے پاکستان میں بھی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔

سینیٹر عون عباس کا کہنا تھا کہ امریکی حکام خود کہہ رہے ہیں کہ فلسطینی گھاس کھانے پر مجبور ہیں، ہمیں اگر فلسطینیوں کی مدد کرنی ہے تو آئیے اس ایوان میں امریکہ کی مذمت کی قرارداد منظور کرتے ہیں۔

سینیٹر خالدہ خطیب نے کہا کہ ہمیں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔

سینیٹر تاج نے کہا کہ پہلے جب جنگ ہوئی تھی تو بھٹو نے اپنی ائیر فورس وہاں بھیجی تھی اور فلسطینیوں کو ائیر کور دیا تھا، لیکن اس کے بعد بھٹو کو پاکستان میں اسرائیلی ایجنٹوں نے قتل کردیا۔

سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ ان قراردادوں سے کچھ نہیں ملے گا، وقت آگیا ہے کہ ائیر فورس کو کہا جائے۔

سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے فلسطین سے محبت کی جدوجہد کو پاکستان میں زندہ رکھا ہوا ہے ، سراج الحق اس معاملے پر خراج تحسین کے مستحق ہیں، کم ازکم ہم یہودیوں کی اشیاء کا پاکستان میں بائیکاٹ کریں۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ میں تجویز کرتا ہوں تمام سینیٹرز اپنی ایک مہینے کی تنخواہ فلسطینیوں کیلئے وقف کریں۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیلی کمپنیاں جو فلسطین جنگ میں مدد کررہی ہیں ان کا بائیکاٹ ہونا چاہئے، عربوں کو شرم کرنی چاہئے، الخدمت فاؤنڈیشن کے سربراہ قاہرہ میں ہیں، شہباز شریف حکومت ہمیں سہولت دے ہم وہاں جاکر ان بچوں کو لانا چاہتے ہیں، ہم تمام سینیٹرز جاکر امریکی سفارتخانے کے سامنے جاکر احتجاج کریں، سیاسی جماعتیں اور پوری عوام امریکی سفارتخانے کے باہر دھرنا دیں، پاکستان ترکی مل کر ایک فلوٹیلا بنائیں اور سامان فلسطین بھیجیں۔

سینیٹر سیمی ایزدی نے کہا کہ ہمیں کے ایف سی، میکڈونلڈ سمیت اسرائیلی مصنوعات کا سختی سے بائیکاٹ کرنا چاہئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔