مصر میں اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت

ویب ڈیسک  پير 4 مارچ 2024
—فائل فوٹو

—فائل فوٹو

مصر کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنائی۔

عالمی میڈیا کے مطابق ان رہنماؤں میں 8ویں سپریم گائیڈ 80 سالہ محمد بدیع بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں۔ واضح رہے کہ چند برس قبل محمد بدیع کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

مصر نے اخوان المسلمین کو 2013 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ مصری حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فوج نے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد اسکندریہ کے سیدی گبر ضلع میں پرتشدد فسادات میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت نے ان فسادات کی تمام تر ذمہ داری اخوان المسلمین پر عائد کی جبکہ اخوان المسلمین نے ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ صدر مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد سے اسلام پسند اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

سزائے موت پانے والوں میں 79 سالہ قائم مقام گائیڈ محمود عزت بھی شامل ہیں جنہیں برسوں روپوش رہنے کے بعد اگست 2020 میں قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

6 دیگر رہنماؤں یعنی محمد البلتاگی، عمرو محمد ذکی، اسامہ یاسین، صفوت ہیگزی، عاصم عبدالمجید اور محمد عبدالمقصود کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن نے اپریل 2021 میں کیس کو اسٹیٹ سیکیورٹی کریمنل کورٹ میں بھیج دیا تھا۔ اس مقدمے میں قائدین کی جانب سے قاہرہ کے مشرق میں النصر روڈ پر رابع العدویہ دھرنے سے لے کر ’’پلیٹ فارم میموریل‘‘ تک ایک اجتماع منعقد کرنے کے الزامات شامل تھے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔