مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف پی ٹی آئی کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

ویب ڈیسک  منگل 5 مارچ 2024
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

 راولپنڈی: پی ٹی آئی نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے اور انہیں ن لیگ و پی پی کو دیے جانے کے خلاف اتوار کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا۔

یہ بات پی ٹی آئی رہنماؤں شیر افضل مروت، شاندانہ گلزار، عاطف خان، شہریار آفریدی سمیت دیگر نے میڈیا ٹاک میں کہی۔ رہنماؤں نے بتایا کہ عمران خان نے اتوار کو مظاہرے کی کال دی ہے جس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے کیوں کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں  ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا لیکن الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا مینڈیٹ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو دے دیا جو سراسر زیادتی ہے جس کے خلاف اتوار کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئی شارٹ ٹرم پلان نہیں ہے، پاکستان کے پاس صرف فارن ریمی ٹینسز ہیں جب کہ نواز شریف اور شہباز شریف اپنی دولت باہر بھیج رہے ہیں اور فارن ریمی ٹینسز لانے والے لیڈر کو جیل میں رکھا گیا ہے، اگر ہمیں اقتدار دیا جاتا ہے تو ایک کروڑ بیرون ممالک پاکستانیوں کی مدد سے ملک کو فوری پیسہ مل سکتا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن پراسس کا آڈٹ کرادیں اگر حکومت جائز ہے تو پھر قرضہ دے دیں۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے، عمران خان نے مزید 7 سال جیل میں رہنے کا کہا ہے اور کسی بھی ڈیل سے انکار کردیا ہے، عمران خان نے کسی بھی شراکت اقتدار سے بھی معذرت کرلی ہے، عمران خان نے تمام این ایز اور ایم پی ایز کو ہدایت کی ہے ایوان میں کسی بھی حکومتی جماعت سے گلے نہ ملیں۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کا کہنا تھاکہ جب بھی احتجاج ہوگا تمام اپوزیشن کھڑی ہوگی اور بڑا احتجاج ہوگا، اس اتوار کو الیکشن کمیشن کے خلاف خیبر پختونخوا میں تاریخی احتجاج ہوگا، راولپنڈی اسلام آباد میں احتجاج کو خود لیڈ کروں گا۔

عاطف خان نے کہا کہ ہم سے جو ووٹ چھینا گیا وہ بات ہم نے نہیں چھوڑنی ہے ہمیں سڑکوں اور عدالتوں میں اس کا مقدمہ لڑنا ہے کسی بھی ممبر کو اٹھایا گیا تو اب تمام اسمبلیوں اور سینیٹ میں احتجاج ہوگا لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، سیٹیں ہمارا حق ہے عوام نے ہمیں ووٹ دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔