بی جے پی نے برطانوی وزیراعظم کی ساس کو راجیہ سبھا کا رکن نامزد کردیا

ویب ڈیسک  جمعـء 8 مارچ 2024
سودھا مورتی بھارت کی پہلی خاتون انجینیئر اور بھارتی ٹیک کمپنی کی چیئرپرسن ہیں، فوٹو: فائل

سودھا مورتی بھارت کی پہلی خاتون انجینیئر اور بھارتی ٹیک کمپنی کی چیئرپرسن ہیں، فوٹو: فائل

نئی دہلی: برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کی ساس بھارت کی معروف بزنس ویمن اور سماجی کارکن 73 سالہ سودھا مورتی کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) کے لیے رکن نامزد کردیا۔

بھارت کی خاتون صدر دروپدی مرمو نے اعلان کیا کہ سودھا مورتی بھارت کی ایک قابل فخر سرمایہ ہیں جنھوں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ملک کا نام روشن کیا اور ٹیک بزنس میں عالمی شہرت حاصل کی۔ ہم راجیہ سبھا میں ان کی خدمات، تجربے اور مشاہدے کا فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سودھا مورتی کی حمایت کی جب کہ سودھا مورتی نے راجیہ سبھا کے لیے اپنی نامزدگی پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کبھی سیاست کا حصہ نہیں رہی۔ یہ میرے لیے نیا تجربہ ہوگا۔

خیال رہے کہ سودھا مورتی برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک کی ساس ہیں۔ اُن کی بیٹی اکشتا مورتی نے رشی سنک سے 2009 میں شادی کی تھی جو اب برطانیہ کے وزیراعظم ہیں۔

سودھا مورتی کے شوہر این آر نارائن مورتی نے 1981 میں ایک ٹیک کمپنی کی بنیاد رکھی تھی جس نے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی اور ان کے اثاثوں کی مالیت 4.7 بلین ڈالر ہے۔ سودھا مورتی اسی کمپنی کی انسان دوست شاخ کی چیئر پرسن ہیں۔

سودھا مورتی نے اپنی کمپنی میں خواتین کو باختیار بنایا اور پیشہ ورانہ تربیت دیکر ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں مہارت دی اسکے لیے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود کے کئی پروجیکٹ بھی جاری ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کے ایوان بالا کے زیادہ تر ارکان منتخب ہوکر آتے ہیں لیکن کسی شعبے میں بے مثال کامیابیاں حاصل کرنے والے قابل فخر اور قابل تقلید 12 افراد کو ملک کے صدر اپنے صوابدیدی اختیار کی بنیاد پر 6 سال کے لیے رکن نامزد کرسکتے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔