رمضان کی آمد؛ برطانیہ میں اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہم کا آغاز

ویب ڈیسک  منگل 12 مارچ 2024
اسرائیل سے برطانیہ سالانہ 30 ہزار ٹن کھجوریں درآمد کی جاتی ہیں جن کی مالیت 10 ملین ڈالرز بنتی ہے، فوٹو: فائل

اسرائیل سے برطانیہ سالانہ 30 ہزار ٹن کھجوریں درآمد کی جاتی ہیں جن کی مالیت 10 ملین ڈالرز بنتی ہے، فوٹو: فائل

لندن: رمضان المبارک کا مہینا شروع ہوچکا ہے اور اس برس یہ ماہ مقدس ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل کی غزہ پر 4 ماہ سے مسلسل جاری بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 24 ہزار کے لگ بھگ ہوچکی ہے جب کہ 63 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ 

غزہ میں اسرائیلی بمباری کے باعث بے گھر ہونے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہے جن کے پاس رہنے کے لیے نہ ڈھنگ کا کوئی ٹھکانہ ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان موجود ہیں لیکن ان کے عزم پختہ اور حوصلے بلند ہیں۔

غزہ کے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں ایسے پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم جاری ہے جو اسرائیل یا کسی ایسی کمپنی کی ہیں جو غزہ پر جارحیت میں کسی بھی صورت میں ملوث ہیں۔

یہ خبر پڑھیں : سلامتی کونسل حماس کی قید سے یرغمالیوں کی رہائی کیلیے کردار ادا کرے؛ اسرائیل 

برطانیہ میں رہنے والوں مسلمان نے اس رمضان فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے آنے والی کھجوریں نہیں خریدیں گے اور اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ آگہی پھیلانے کے لیے پمفلٹس بانٹے جا رہے ہیں اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیل سے برطانیہ سالانہ 30 ہزار ٹن کھجوریں درآمد کی جاتی ہیں جن کی مالیت 10 ملین ڈالرز بنتی ہے اور رمضان میں اس کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے تاہم اس سال ایسا نہیں ہے۔

برطانایہ میں اسرائیل سے درآمد کردہ کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ شاپنگ مالز میں خریدار کھجوروں کے پیکٹس پر اسرائیل کا نام دیکھ کر اسے واپس رکھ دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کے سربراہ کا رمضان المبارک میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

ایک صارف نے کہا کہ ہم میں سے اکثر یہی سمجھتے تھے کہ کھجوریں عرب ممالک سے آتی ہیں لیکن جب بائیکاٹ کے حامیوں نے آگاہی مہم چلائی تو یہ غلط فہمی دور ہوئی اور اب ہم اسرائیلی کھجور بالکل نہیں خریدیں گے۔

یاد رہے کہ  ’ایف او اے’ نامی تنظیم نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف پچھلے 14 برسوں سے اسرائیلی کھجوروں کی بائیکاٹ کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔