اسرائیل کے رفح پر فوجی آپریشن اور حملوں کی حمایت نہیں کریں گے، امریکا

ویب ڈیسک  بدھ 13 مارچ 2024
رفح میں 13 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں، اسرائیلی حملوں سے ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، امریکا

رفح میں 13 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں، اسرائیلی حملوں سے ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، امریکا

 واشنگٹن: امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن نے اسرائیل کے رفح میں فوجی آپریشن اور فضائی حملوں کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے یہ فیصلہ رفح میں بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کے جانوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر کیا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے بقول امریکی صدر جوبائیڈن رفح میں 13 لاکھ پناہ گزینوں کے لیے فکر مند ہیں جنھیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کیے بغیر فوجی آپریشن اور فضائی حملوں سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔

یہ خبر پڑھیں : اسرائیل اورحماس میں جلد جنگ بندی معاہدے کا امکان نہیں، قطر 

ادھر امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے کہا کہ بہت سے پیچیدہ مسائل کے باعث غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب قطر نے بھی جنگ بندی کے  فوری امکانات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ فریقین اب تک جنگ بندی کے معاہدے کے قریب نہیں پہنچ سکے۔

واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 65 ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔