نہار منہ سیب کا سرکہ پینے سے وزن کم کیا جاسکتا ہے، تحقیق

ویب ڈیسک  جمعـء 15 مارچ 2024
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

بیروت: ورزش کیے بغیر مُٹاپے سے چھٹکارا پانے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک نئی اسٹڈی کی صورت میں اچھی خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے  کہ  نہار منہ سیب کا سرکہ پینے سے وزن کم کیا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیقی مطالعہ لبنان کی ہولی اسپرٹ یونیورسٹی کے محققین نے  کیا ہے، جس میں ان کا   کہنا ہے کہ سیب  کا سرکہ مٹاپے سے نجات کے لیے ایک بہترین سپلیمنٹ  ثابت ہوسکتا ہے اور اسے استعمال کرنے کے کوئی ضمنی اثرات ( سائیڈ ایفکیٹس) بھی نہیں ہیں۔

قبل ازیں ہونے والی متعدد تحقیق میں سیب کے سرکے کے استعمال سے  خون  میں  شکر کی سطح  اور بھوک میں کمی کی تصدیق ہوچکی تھی تاہم  اب  نئی اسٹڈی میں یہ بات  سامنے آئی ہے کہ  فربہ  افراد میں سیب  کا سرکہ باڈی ماس انڈیکس ( بی ایم آئی )، ٹرائی گلیسرائیڈ (  خون میں پائی جانے والی چربی کی ایک قسم  ) اور  کولیسٹرول میں کمی لاتا ہے۔

اس اسٹڈی کے روح رواں  ڈاکٹر رونی ابو خلیل کے مطابق  تحقیقی مطالعے کے دوران 46 مردوں اور 74  خواتین رضاکاروں کا تین ماہ تک جائزہ لیا گیا جن کی عمریں 27 سے 34 سال کے درمیان تھیں۔

120  مرد و خواتین کو چار گروپوں میں بانٹ دیا گیا تھا، پہلے تین گروپوں نے 12 ہفتے تک روزانہ صبح ناشتے سے قبل  بالترتیب5، 10 اور 15  ملی لیٹر سیب کا سرکہ پیا، جبکہ چوتھے گروپ کو  تجرباتی طور پر ایک بے ضرر مائع پینے کے لیے دیا جاتا رہا۔

اسٹڈی میں شریک رضاکاروں نے محققین نےا پنی غذا اور جسمانی سرگرمی کے بارے میں بھی معلومات  فراہم کیں۔

تین مہینے کے بعد محققین نے تینوں گروپوں  میں وزن میں کمی  نوٹ کی، ان گروپوں میں شامل رضاکاروں کے کولہوں اور کمر پر سے چربی  کم ہوئی تھی۔

15  ملی لیٹر روزانہ سرکہ پینے والے گروپ کے افراد کا  اوسط وزن 170 سے  کم ہوکر 155  پاؤنڈ  پر آگیا، اسی طرح 10  ملی لیٹر سرکہ پینے والے گروپ کے افراد کا وزن  174 سے کم ہوکر 159 پائونڈ اور  تیسرے گروپ کے شرکا کا اوسط وزن 174 سے کم ہوکر 163 پاؤنڈ  رہ گیا۔

اگرچہ اس اسٹڈی  کے شرکا  کے وزن میں تین ماہ کے دوران کمی دیکھی گئی تاہم ڈاکر ابو خلیل کہتے ہیں  کہ اس اسٹڈی کے لیے محدود پیمانے پر رضاکاروں کا انتخاب کیا گیا تھا اورتین ماہ کی مدت بھی کوئی بہت زیادہ  نہیں ہے، اس لیے  اس اسٹڈی کی بنیاد پر سیب کے سرکے کے ممکنہ طویل المدت  ضمنی اثرات  کےبارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔