امریکی سفیر کی صدر مملکت اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقاتیں

ویب ڈیسک  پير 18 مارچ 2024
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پہلے اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں انہوں نے وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے پر اسحاق ڈار کو مبارک باد پیش کی۔ بعد ازاں امریکی سفیر کی صدر مملکت سے بھی ملاقات ہوئی۔

صدر مملکت نے ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے مواقع تلاش کرنا ہوں گے، معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنا، اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری ، جدید کاروباری آئیڈیاز لانے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، ۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات سات دہائیوں پر محیط ، دیرینہ اور وسیع البنیاد ہیں ، پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

اس موقع پر امریکی سفیر نے صدر مملکت کو دوسری مرتبہ عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا تجارتم  سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی، زراعت اور سیکورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھا سکتے ہیں۔

قبل ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی سفیر بلوم کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں پاک امریکا تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں اقتصادی اصلاحات کے لیے امریکی حمایت سمیت دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں علاقائی سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں ترقی کے امکانات اور امریکا پاکستان گرین الائنس فریم ورک کی پائیدار اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے امریکا کے عزم سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی اور سلامتی امریکا کی اولین ترجیح ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔