امریکا کی نوعمر آبادی میں خودکشی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا

ویب ڈیسک  بدھ 3 اپريل 2024
[فائل-فوٹو]

[فائل-فوٹو]

  واشنگٹن: امریکا میں نوعمر آبادی میں خودکشی کی شرح 20 سالوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک نئے مطالعے نے ظاہر کیا ہے کہ دو دہائیوں کے دوران 10 سے 19 سال کی عمر کے 47,000 امریکیوں نے خودکشی کی اور ہر سال اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

’جاما نیٹ ورک اوپن‘ میں شائع ہونے والے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں میں خودکشی کے واقعات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اقلیتی صحت اور تفاوت کے پروفیسر کیمرون اورمسٹن نے بتایا کہ نوعمر آبادی میں خودکشی کا رجحان امریکا کے تمام خطوں میں ہی دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نسل، جنس اور طریقہِ خودکشی کے لحاظ سے بھی پریشان کن رجحانات سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر منشیات کی وجہ سے ہونے والی اموات میں نوعمر لڑکوں میں سالانہ 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ لڑکیوں میں 4.5 فیصد۔

دوسری طرف بندوق کے استعمال سے خودکشی کرنے والے لڑکوں میں سالانہ 5.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس میں بھی تیزی سے اضافہ جاری ہے۔ جبکہ لڑکیوں میں بندوق کے ذریعے خودکشی میں سالانہ 7.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔